فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 335
۳۳۵ میں ضرور ضرور تمہارے شر سے محفوظ رہونگا۔اور تم میرا بال بیکا نہ کر سکو گے۔کیا اس چڑہانے والی آواز سے وہ اور زیادہ نہیں جھلائے۔اور اُن کے کینہ و انتقام کی آگ اور زیادہ نہیں بھڑکی کیوں نہیں۔بلکہ آگے سے بڑھکر داؤ گھات میں رہنے لگے مگر خدا کا وعدہ پورا ہوا۔اور اسی نبی برسی کی صداقت کی بڑی کامل دلیل دنیا پر ظاہر ہوئی۔کہ آنحضرت اُس ذریعے اور مہلکے سے خدا کے حفظ و امان کے بدرقے کے ساتھ سلامت نکل گئے۔اور وہ خدا کے دشمن۔رسول کے دشمن۔انسان کی فلاح و صلاح کے دشمن دانت پیستے اور ہاتھ کاٹتے رہ گئے۔ہم کو سخت تعجب آتا ہو جب ہمہ قرآن کی اس آیت کو جھتے ہیں جسمیں باریتعالی بڑا ثبوت آنحضرت کی نبوت کی صداقت کا دیتا ہے۔وَلَوْ تَقَولَ عَلَيْنَا بَعْضَ الأَقَاوِيلِ لاَ خَذَ نَاوِتُهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ، سیپاره ۲۹ - سوره حاقه - رکوع ۲ - یعنی اگر یہ شخص جھوٹا رسول ہوتا تو بیشک بیشک قتل کیا جاتا۔تباہ ہو جاتا۔مارا جاتا، کیونکہ خداوند خدا پہلے سے اپنے برگزیدہ نبی موسی کی معرفت اپنے اس اولو العزم نبی کی بابت ارشاد اور وعدہ فرما چکا تھا۔اور اس سچے نبی کی صداقت نبوت کی پیچان بھی بتا چکا تھا کہ وہ زندہ رہیگا۔ہاں وہ سلامت رہیگا۔اور اسکے مخالفین معبودانِ باطل کے عابد ہلاک ہو جا دینگے۔بیشک با ایں ہمہ ثبوت بین اُن لوگوں کی جہالت اور عصبیت سخت تعجب دلاتی ہے۔مگر جس وقت اُس قوم گمراہ کے حقیقی وارث اس زمانے کے اہل کتاب (پادری صاحبان کو ہم دیکھتے ہیں۔کہ وہ توریت کے وعدوں کو بالائے طاق رکھ کر ہے اور اگر یہ رسول ہماری نسبت جھوٹی باتیں بناتا ت ضرور ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑتے۔پھر اس کی رگ حیات کو کاٹ ڈالتے ۱۲ -