فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 321 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 321

۳۲۱ کو تخت پر اتر تا دیکھوگے۔حالانکہ ان کا ہنوں میں سے کسی نے نہ دیکھا۔بلکہ انہیں سوبرس کے قریب گزرتا ہے۔اب تاک میں نہیں آئے۔تیسرا شبہ فارقلیط کی تعریف میں ہے۔تم اسے نہیں دیکھتے حالانکہ محمد صاب فارقلیط کی میں ہے تم اسے نہیں دیکھتے ملا میر صاب کو لوگوں نے دیکھا۔جواب یہاں جسمی دیکھنا ہی سمجھیں جو جسم کے فرزند میں مسیح پر سب۔روح القدس انتری وہ بھی کبوتر کی شکل میں لوگوں نے دیکھی۔تو پھر روح القدس پر شبہ آگیا۔وہ دیکھے گئے۔بات یہ ہے یہاں حقیقت کی پہچان کو دیکھنا کہا ہے۔اگر محمدی حقیقت کو لوگ پہچانتے تو اسکے منکر کیوں ہوتے ۱۱ باب ۲۷- یوسعنا در باب ۱۹ اشبہ وہ تمہارے ساتھ ہے اور محمد صاحب ہمارے ساتھ نہیں۔یہ صیفہ معنی استقبال ہے دیکھو بعینہ یہ محاورہ از قبیل ۳۹ باب - اور یوحنا د باب ۲۵ میں بھی ہے۔وہ ابھی جب مرے ابن اللہ کی آواز میں سنیں۔انیس سو برس میں یہ (ابھی ظاہر نہیں ہوئی۔پانچواں شبہ اس بشارت میں لکھا ہے۔وہ میری چیزوں سے پاونگی۔اور محمد صاحب نے مسیح کی چیزوں سے کیا یا یا۔جواب۔اسی فقرے کے بعد سیم فرماتے ہیں۔سب چیزیں میرے باپ کی میری ہیں۔اسلئے میں کہتا ہوں کہ وہ میری پیزوں سے لے گی۔بلکہ اس فقرے سے مسیح کے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ روح بتدریج کامل ہوگی۔اور آہستگی سے کمال حاصل کرے گی۔چھٹا اعتراض۔اعمال 1- باب ، میں ہے۔اسکے آتے تک یروشلم میں رہو۔میں معلوم ہوتا ہے وہ روح پروشلم میں حواریوں پر اتری۔جواب - روح القدس کے اقسام میں ایک موعد الا ہے اور ایک فارقلیط