فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 320
(۱) مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْى تُولى سيپاره ٢٠- سورة النجم - ركوعه - (٣) إن أتَّبِعُ الا مَا يُوحى إلى سياره، سوره انعام - رکوع ۱۲ (۳) كُل ما يكون إلى أن أبدِ لَهُ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِي إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إلى - سیپاره السورة يونس - رکوع۔عیسائیوں کے اعتراضا پہلا شبہ۔ان بشارات میں جو بوستا نے لکھی ہیں۔روح القدس روح المتن مراد ہے۔اور وہ اقنوم ثالث ہے۔جواب۔اس روح کا اقتدم ثالث سے ہوتا تو صرف عیسائیوں کا دعوتی ہے۔روح کا لفظ کتب مقدسہ میں وسیع معنے رکھتا ہے۔جن قبل ۳۷ باب ۱۳ میں مردوں کو فرمایا میں اپنی روح تم میں ڈالونگا۔دیکھو یہاں روح الہی۔نفس حیوانی ہے یا قوتِ حیات۔م باب ا۔یوحنا کا پہلا خط - ہر ایک رُوح کی تصدیق مت کرو۔بلکہ امتحان کرلیا کرو معلوم ہوتا ہے واعظوں کو روح کہتا ہے جیسے انجیل متی میں وہ نبی (آنحضرت سے مراد ظاہر نبی موسی کے مثل ہے۔ایسا ہی انجیل یوحناء غیرہ سے رُوح القدس روح الحق وہی مظہر اتم ہے جس کا بیان قرآن میں ہو۔قُلْ إِنَّ رَبّى يَقْدِبُ بِالْحَقِّ عَلامُ الْغُيُوبِ تو کہ میرا اب پھینکتا جاتا ہو سچا دین وہ جانے والا ہر چھپی چیزوں کا سے ظاہر ہے۔دوسرا شبہ بشارات میں خطاب حواریوں کو ہو۔اور نہ صاحب حواریوں کے وقت تشریف نہیں لائے۔جواب متی ۲۷ باب ۶۴ میں کاہنوں کو مسیح نے فرمایا۔تم ابن آدم (حضرت سخ) ے نہیں بولتا ہو اپنے بارہ سے یہ توحکم ہے جو بھیا ہوا ملے میں اس پر چلتا ہوں موجود کو حکم آتا ہے " لے تو کہ میرا کام نہیں کہ اس کو بدلوں اپنی طرف سے میں تابع ہوں اسی کا جو حکم آوے میری طرف ۱۲۔