فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 319
۳۱۹ تمر بھی گواہی دیتے ہو۔جواری تو مسیح کو خوب جانتے تھے۔انہیں گواہی کی حاجت نہ تھی۔اور اوروں کو اس روح نے جو حواریوں پر اتری گواہی دی نہیں۔اور روح القدس نے کوئی گواہی دی ہے تو وہی گواہی ہے جو جواریوں نے دی۔اس روح القدس نے حواریوں سے علیحہ : ہرگز کوئی گواہی نہیں دی۔چہارم مسیح نے فرمایا میرا بہانا بہتر ہے۔میں جاؤں تو وہ آو سے یوجناء اباب ہے۔صاف عیان ہے مسیح کے وقت وہ روح نہ تھی۔حال آنکه روح القدس یوحنا بیٹسما دینے والے کے وقت سے سی کے ساتھ تھی۔یوحنا و ارباب ، میں ہے۔وہ سزا دے گی۔اور بالکل ظاہر ہے۔وہ رُوح ہو حواریوں پر اتری۔بلکہ خود مسیح اور سینے والی روح سزا دینے کے لئے نہ تھی دیکھو عيبا یوحنا س ا باب ۴ - ششم یوحنا باب ۱۲ میں ہے۔مجھے بہت کچھ کہنا ہے۔پر اب تم برداشت نہیں کر سکتے۔وہ روح جس کی بشارت ہے۔سب کچھ بتائے گی۔یہ فقرہ بڑی سخت محنت یسا ہوں پر ہے۔کیونکہ جو روح القدس حواریوں پر اتری۔اُس نے کوئی سخت اور نہیں سنایا۔تثلیث اور عموم دعوت غیر قوموں کی بلاہٹ تو بقول عیسائیوں کے خود سیح فرما چکے تھے۔اور پولوس کی کارستانیوں نے تو کچھ گھٹایا ہے۔بڑھایا نہیں۔ہاں اس رُوح القدس اس روح الحق نے جس کو فارقلیط کیئے۔پر کلیٹ اس۔پار اکلیٹوس کہیئے۔محمد کہیئے۔احمد بو لیے۔عبد اللہ اور آمنہ کے گھر جنم لے۔صدہا احکام حلت و حرمت اور عبادات اور معاملات، کے قوانین سیحی تعلیم پر بڑھا دیئے۔فداہ ابی اُمتی۔ہفتم۔یہ سناو ا باب ۱۳۔وہ اپنی نہ کہے گی۔اور یہی مضمون مقر آن میں یوحناء محمد بن عبد اللہ کی نسبت ہے۔