فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 302
۳۰۲ اور صادق و مصدوق امین و مامون ابھی سے خطاب دیا جارہا ہے۔بڑی صاف بات ہے کہ ایک ایسی قوم میں جسکو شخصی کارناموں۔ذاتی حسن و قبح اور حسبی نسبی انتیازات پر نظر ہو۔ضرور تھا کہ خدا ایسے شخص کو مبعوث کرتا جسکے دامن حال پر ا ور متعارف قوم میں سے کسی ایک امر کا بصبانہ الگ سکے فطرت کا نا قابل انفسان قاعدہ کہ مصالح کی وجاہت و وقعت یعنی اُس کا حسب و نسب میں ممتاز ہونا اصلاح قوم میں دخل کلی رکھتا ہو اور خواہی نخواہی ارادت انگیز اثر اور جذب ملت کا دلوں میں ڈالتا ہے۔کل دنیا کے ریفارمروں اور مسلموں کی لائف اسکی شہادت دیتی ہے۔بنی اسرائیل کسی امید میں شب و روز بیکل ہورہے تھے۔ان کے دیدۂ انتظار کدھر لگے ہوئے تھے۔وہ تباہی اور ذلت اور مغلوبیت کی حالت میں کس امید بستہ سے غم غلط کر رہے تھے کہ ایک ذی شان رفیع المکان صاحب امتیازات بادی ان میں پیدا ہونے والا ہے۔جس کی شوکت صلابت اور وجاہت اُنکے لئے بڑی قوت بازو ہو گی۔اب وہ امید بستہ تو پوری ہوئی مگر ایسی دھندلی اور تاریکی شکل میں کہ دیدہ سفید مشترکان با وجود انتظار کبھی اُسے پہچان نہ سکے کہ انکی عروس مراد یہی ہو۔وہ شخص موعود جیسا کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔سامان امیرانہ ایسا کہ بعد از وضع چرتی میں رکھا گیا۔گمنام نشو نما پایا۔عالم محاطہ میں قدم رکھا تو ابن نجار کہلایا۔اور طبعا قوم کی جان ہے استغفار کی آنکھ سے دیکھا گیا۔اور یوں بڑا عظیم فانہ مفقود و نابود ہوگیا۔مگر مبارک ہوراں مرتب ہوا اس مولود مسعود کو جسکو قوم نے تمام صفات مختص القوم کا مجموعہ مانا۔اسکے عین عالم شباب میں بڑے بڑے پیران قوم کا مرکز و مرجع ہوا۔لگتے ہیں عام دستور تھا کہ جس شخص کے پاس کوئی عجیب اور بیش قیمت چیز ہوتی۔جسے وہ اپنے پاس محفوظ نہ رکھ سکتا وہ آنحضرت کے پاس امانت رکھتا اور اس بات کی یہاں تک شہرت ہو گئی کہ قوم کے پیرو جوان کی زبان پر الامین المامون کے سوا آپکی نسبت اور کوئی لفظ ہی نہ آتا۔بلکہ عرب کی ایک بڑی مالدار اور بزرگ عورت خدیجة