فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 282
۲۸۲ دوسرے یہ کہ مرکز اس خاندان کی آبادی کا حجاز تھا۔جہاں اسمعیل کی متقدم اولاد کا مسکن ہوا تھا۔اور پھر اس مرکز سے اور طرف عرب میں پھیلے۔پس ثابت ہوا کہ حضرت محیل نے حجاز میں سکونت اختیار کی تھی۔اور اُسی کا قدیم نام فاران ہے۔جو حضرت موسیٰ اور حضرت حبقوق نے اپنی اپنی بشارتوں میں بتایا۔عیسائیوں کے اعتراض اگر چہ یہ بات نہایت صفائی سے ظاہر ہے کہ وادی مجاز اور وادی فاران دونوں ایک ہیں۔اور اسمعیل کی اولاد کے ٹوٹے پھوٹے کھنڈر اس کی گواہی دے رہے ہیں۔مگر یا ایہہ عیسائی اُس کو تسلیم نہیں کرتے۔اور موقع فارآن کی نسبت مفصلہ ذیل تین رائیں قرار دیتے ہیں۔(۱) یہ کہ وہ اس وسیع میدان کو جو بیر تشیع کی شمالی حد سے کوہ سینا تک پھیلا ہوا ہے۔فاران کہتے ہیں۔(۲) قادیش جہاں ابراہیم نے (بیر شیع ، کھودا اور خارانی ایک ہیں۔(۳) فاران اسی وادی کا نام ہے جو سینا سے مغربی نشیب پر ہے۔جہاں قبریں عمارتیں اب ملی ہیں۔جواب۔(1) بتاؤ یہاں اصیل اور اس کی صلبی اولاد کب آباد ہوئی۔(۲) کتاب -۳-۱۲-۲۵ و ۲۶ وہ سردار کنعان کو دیکھ کر پھرے تو بیابان خاران میں سے قادیش میں پہنچے (قادیش شمالی حد فاران کی ہے، یاد رہے، اس آیت کی اصل عبری عبارت یہ ہے۔الی مدبر فاران قادسيه لفظی ترجمه طرف وادی فار آن کے بہ نیل مرام - تاولیش کے معنی پائل کے بھی ہیں۔دیکھو تر جمہ الفلس۔فارآن تین ہیں۔ایک حجاز ہیں۔دوسرا طور پاسینا کے پاس۔تیسر اسمر قند میں۔