فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 281 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 281

۲۸۱ ساتواں بیٹا مشا تھا۔یہ بیٹا حجاز سے نکلاہ مین میں آباد ہوا۔اور تین کے کھنڈرات میں ابتک مسا کا نام قائم ہے۔کاتری بی کاری نے اپنے نقشے میں اس مقام کا نشان ۱۳ در جے اور ۳۰ دقیقه عرض شمالی۔اور ۲۳ درجے اور ۳۰ دقیقے طول شرقی میں قائم کیا ہے۔آمیل اور انکی تمام اولاد حجاز میں تھی۔بلاش ہر جب اولاد جوان ہوئی اور کثرت ہو گئی۔تب مختلف مقاموں میں جاکر سکونت اختیار کی۔مگر عمدہ بات قابل غور یہ ہے کہ سب کا پند عرب ہی میں یا حجاز میں یا حجاز کے آس پاس پایا جاتا ہو۔اٹھواں بیٹا حدد- اسکو عہد عتیق میں حداد بھی لکھا ہے۔یمن میں شہر جدیدہ ابتک اُسی کا مقام بہہ رہا ہے۔اور توہم جدیدہ جوئین کی ایک قومہ ہو اسی کے نام کو یاد دلاتی ہے۔زہیری مورخ کا بھی یہی قول ہے اور مسٹر فاسٹر بھی اسی کو تسلیم کرتا ہے۔نوان بیٹا تیما تھا۔اس کی سکونت کا مقام سنجد ہے۔اور بعد کو رفتہ رفتہ فلیچ فارس تک پہنچ گیا۔دسواں بیٹا یطور ہے۔مسٹر فاسٹر بیان کرتے ہیں کہ اُس کا مسکن جدور میں تھا۔جو جیل کسیونی کے جنوب اور جبل الشیخ کے مشرق میں واقع ہو۔گیارھواں بیٹا نا فلیش تھا مسٹر فاسٹر جوزیفنس اور تورات کی سند سے لکھتے ہیں کہ عریبیا ڈیزرٹا میں اُن کی نسل کے نام سے آباد تھے۔بارھواں بیٹا قید ماہ۔انہوں نے بھی ٹین میں سکونت اختیار کی۔مورخ مسعودی نے لکھا ہے کہ اصحاب الرس امنین کی اولاد میں سے تھے۔اور وہ دو قبیلے تھے۔ایک کو قدمان اور دوسے کو یا مین کہتے تھے، اور بعضوں کے نزدیک دعویل اور یہ مین میں تھے۔اب اس تحقیقات سے ہو جغرافیے کے رو سے نہایت اطمینان کے قابل ہو دو بائیں ثابت ہو گئیں۔ایک یہ کہ حضرت اسمعیل اور اُن کی تمام اولاد عرب میں آباد ہوئی۔اور