فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 268 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 268

PYA وَكَذَّبَ بِهِ تَوْمُكَ وَهُوَ الْحَق قُل لَّسْتُ عَلَيْكُم بِوَكيل و لكل نَبا مستقر ، - ون العلمي أردن - - - سیپاره ، - سوره انعام رکوع ۸ - وإذ قال: اللهم إن كان هذا هو المَن مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرُ عَلَيْنَا حِجَارَةً منَ السَّمَاءِ أَوِ اثْتِنَا بِعَذَابِ اليْه وَمَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمُ سیپاره ۹ - سوره انفال - رکوع ۴ - اس آیت میں یہ بات بتائی۔کہ تیرے یہاں ہوتے ہوئے۔یعنی سکے ہیں وہ عذاب نہیں آئیگا۔ويَقُولُونَ مَتَى هذا الوعد إن كُنتُمْ صَدِقِينَ وَقُلْ عَسَى أَن يَكُونَ سَرِينَ لَمَكُم بَعْضُ الَّذِي تَسْتَعْجِلُونَ ، سیپاره ۲۰ - سوره نمل - رکوع ۶ - اس میں بتایا کہ یہ عذاب کچھ حصہ اس عذاب موعود کا ہو گا۔اور تمہاری تباہی اور استیصال کا شروع ہو گا۔و يقولون متى هذا الوعد إن كُنتُمْ صَدِقِينَ ، قُلْ لَكُمْ مِبْعَادُ يَوْمٍ لا نَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ ، سیپاره -۲۲ - سوره سبا - رکوع ۳ نوٹ۔نبوت کا دن ایک برس کا ہوتا ہے۔جیسے دن جو ساتھ صبح اور شام کے نبوت میں لکھا ہوں یا شام با صبح سے شروع کرے تو جو میں گھنٹے کا شمار ہوتا ہے۔ورنہ ایک سال کا۔دیکھو اندرو نہ بائیں صفحہ ۳۱۳ - لے اور تیری قوم نے اسے جھٹلایا حالانکہ یہی ہے تو کہے اسےمحمد میں تم پر وکیل نہیں ہوں۔ہر ایک خبر کے لئے ایک وقت مقرر ہے۔پس عنقریب تم جان لو گے ۱۲ ہے اور جب کہنے لگے کہ یا الہاگہ یہی دین حتی ہے تیرے پاس سے تو ہم پر بر سا آسمان سے پتھر یاں ہم پر کھ کی مار اور اللہ ہرگز عذاب نہ کرتا اُن کو جب تک تو تھا اُن میں ۱۳ یں اور کہتے ہیں کب سے یہ وعدہ اگر تم سچے ہو تو کہ شاید تمہاری بیٹی پر پہنچی ہوا بعض چیز جسکی شتبانی کرتے ہویا ہے اور کہتے ہیں کہ ہے یہ وعدہ اگر تم سچے ہو۔تو کہ تم کو وعدہ ہے ایک دن کا منہ دیر کرو گے اس سے ایک گھڑی نہ شتابی ۱۲ -