فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 261 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 261

اس سے مت ڈا۔۲۶۱ یہی چند باتیں اس پیشینگوئی میں ہیں۔جن پر ناظرین کو غور چاہیئے۔موسیٰ نے اپنی مثالیت کے لئے اپنی کوئی خاص صفت اُن امور کے سوا بیان نہیں کی گو موسی میں ہزاروں اور صفات ہوں۔الا یہ امرکہ دونبی مجھ سا کین صفات میں ہو گا۔سو است اور مذکور یہ پیشینگوئی کے بیان نہیں فرمایا۔پس ہم یقین کرتے ہیں۔اور ہر نصف تسلیم کریگا۔انہیں امور میں تشبیہ اور مثلیت موسی کو مقصود تھی۔علاوہ بریں جب کسی چیز کو کسی چیز کا مثل کہا جاتا ہے۔تو صرف چند امور محقہ میں تشبیہ مطلوب ہوتی ہے۔اب ہم دکھلاتے ہیں کہ قرآن نے اس پیشینگوئی و محمدرسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ثابت ہونے کا صرف دعوی ہیں نہیں کیا۔بلکہ کل مدارج طے کرکے سچا کر دکھایا۔اور تمام امور مندرجہ پیشنگوئی کوتسلیم کر کے بڑے دعوے سے کہا کہ آنحضرت کے سوا اور کوئی اس کا مصداق ممکن نہیں۔آمر اقل۔بنی اسمعیل بنی اسرائیل کے بھائی ہیں۔دیکھو قرآن میں آنحضرت کو کم ہوا وَانْذِرُ عَشِيرَتَكَ الآخر باين - پارد ۱۹۔سورۂ شعراء - رکوع 11- اسپر آنحضرت اپنی قوم الاقربانی - - -- کو حکم دیتے ہیں۔(1) وَ جَاهِدُوا فِي اللهِ حَقَّ جِهَادِهِ هُوَ اجْتَبَكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَج مِلَّةَ اَيْكُمْ إِبْرَاهِيمَ هُوَ سَتَكَكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قَبْلُ - پاره -- سوره حج - ركوع۔انا الي اسكنتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي ذَرُعٍ عِندَ بَيْتِكَ الحرام پاره ۱۳ - سوره ابراهيم - رکوع ۶- - IP ے اور ڈر سنادے اپنے نزدیک کے ناتے والوں کو ملے اور محنت کرو اللہ کے واسطے ہو چاہئیے اسکی محنت اُس نے تم کو پسند کیا اور نہیں رکھی دین میں تم پر کچھ مشکل۔دین تمہارے باپ ابراہیم کا اس نے نام کا تمہارا مسلمان حکم بر دار پہلے سے ۱۲ اے رب میں نے بسائی ہے ایک اولاد اپنی میدان میں جہاں کھیتی نہیں ہے ہی کر ادب والے گھر کے پاس