فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 256 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 256

۲۵۶ دیکھیں تو یہ پیشگوئی صاف محمد بن عبد الله بن اسمعیل بن ابراہیم کے حق میں ہے۔اس بشارت میں کئی امور غور طلب ہیں۔اول یہ برکت دونگا۔برومند کرونگا۔بہت بڑھاؤ نگا نہایت انصاف سے دیکھنے کو مجبور کرتے ہیں اور بڑی بلند آواز سے کہتے ہیں کہ اسمعیلی وعدوں کو جسمانی مت کہو۔صرف جسمانی وعدے میں برکت اور فضیلت نہیں بلکہ بالکل نہیں۔وہ تو موت کے گہرے کنوئیں میں سہنے کا باعث ہو منصفو کیا۔اگر ابراہیم کی اولاد بت پرست راہزن چقد- جاہل۔بد تہذیب قمار باز- زانی- مکار بدکار ہی رہتی۔توحضرت اسمعیل کو کوئی عاقل کر سکتا کہ تو برو مند ہوا۔تجھے برکت ملی تجھے فضل عطا ہوا تجھ سے بڑی قوم بنی ہرگز نہیں۔ہرگز نہیں۔حقیقت تو یہ ہو کہ انکی اولاد میں ایک بڑاز بر دست رسول پیدا ہوا جب اپنے اس متفرق گروہ کو ایک قوم بنایا۔اسی کے وسیلے سے وہ قوم برو مند ہوئی اور اسے یہانتک بڑھایا کہ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةُ كبكر ابد الآباد تک ہر ملک اور ہر جنس کی آئین آنیوالی نسلوں کو اُنکی ترقی کا ضمیمہ بنایا۔فداه الى وَأُمِّي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم دوم - جو بشارات عہد جدید میں حواریوں اور اناجیل کے مصنفوں نے مسیح کی نسبت خیال کر کے مندرج کی ہیں۔وہ سب کی سب اونٹی لگاؤ اور ابہام سے بڑھ کرکوئی وقعت نہیں رکھتیں۔یہاں نہ صرف لگاؤ ہی لگاؤ بلکہ تصریح و توضیح موجود ہے۔کہ بنی اسمعیل (قوم عرب) فضیلت والے۔برکت والے برومند - امام قوم محمد رسول الله صلى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کے عہد برکتِ مہد میں ہوئے۔سوم - فضیلت اُسی وقت پوری فضیلت ہوتی ہو جب اپنے اقران و امثال پر ہو۔اور تمام عالم شاہ ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سادہ سے پہلے عرب اور حجاز والوں بنی اسرائیل پر کبھی کوئی علی حاصل نہیں کیا۔متعصب عیسائی نبی عرب کی بشارات پر ہمیشہ اعتراض کرتے رہے ہیں۔جو یہودیوں کے اُن اعتراضوں سو کہ بشارات مسیح پر انہوں نے کئے ہیں زیادہ زور آور نہیں ہیں۔چنانچہ اس بشارت پر یہ اعتراض کیا ہو۔