فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 245 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 245

۴۴۴۵ ثبوت ان کی صحت کا رکھتے ہیں۔اور اگر مانا جاوے کہ بشارات کا کتب موجودہ اور غیر مشتبہ میں ہونا ضروری ہے۔تو ہم کہتے ہیں کہ بشارات کا مفصل ہونا کہاں ضرور ہے۔بشارات تو اکثر ایک معما اور چیستان اور پھیلیاں ہوتی ہیں۔یا یوں کہیئے کہ خواب کا سا مضمون رکھتی ہیں۔بشارات غالباً عوام پر مشتبہ رہتی ہیں۔اور خواص پر کبھی قرائن سے اور کبھی اُس نبی کے ظہور پر جس کی نسبت وہ بشارتیں ہیں۔یا اسکے اور دلائل سے ثبوت نبوت کے بعد اور اس مبشر نبی کی تفسیر سے ظہور پاتی ہیں۔بلکہ عیسائیوں کے مذاق پر تو کہ سکتے ہیں کہ پیشین گوئیاں اور بشارتیں ایسی منفی اور باریک ہوتی ہیں کہ انبیاء کو بھی اُن کا مصداق معلوم نہیں ہوتا۔علما، بیچارے کس گفتی اور شمار میں ہیں۔عام انبیاء کیا عیسائیوں کے طرفہ پر جس نبی کی بشارت ہو وہ آپ بھی اپنی بشارت کو کبھی نہیں سمجھ سکتا۔دیکھو انجیل یوحنا باب ۲۱ - یوحنا نے اپنے ایملیا ہو نے سم انکار کیا۔حالانکہ انجیل متی اباب ۱۴- اور ۱۷ باب ۱۲ سے معلوم ہوتا ہو کہ بلوجن ایلیا تھا۔مسیح اور پوھنا اور اس نبی کی بشارات اگر مفصل ہوتیں تو کاہنوں اور لادیوں کو پوجت سے پوچھنے کی کیا حاجت ہوتی۔جیسے یوحنا ، ا باب ۲۰ و ۲۱ میں ہے۔اگر بشارات مفصل ہوئیں۔تو و اریوں کو یوحنا کی نسبت کیوں شعبه پر تا متی ۱۷ باب ۱۳ با اینکه سواری موسی سے بھی رہتے میں بڑے ہیں۔اور حواریوں کا مخلص رب یوجنا کا شاگرد اور اسکے ہاتھ پر بیٹسما پانے والا تھا۔اور جوار کی کئی دفعہ یوحنا سے ملے اور اُسے جانتے تھے۔اور بی بی جانتے تھے کہ ایلیا کا مسیح سے پہلے آنا ضرور ہے۔یوحنا - باب ۳۳ میں صاف مندرج ہے کہ یوحنا نے مسیح کو اُسوقت تک نہیں پہچانا۔جب تک خدا نے یو منا کو نہ بتایا۔کہ جسیر روح اترتی تو نہ دیکھے وہ روح القدس کا بیٹا دیگا۔معلوم ہوا کہ میں برس تک یوحنا سا جلیل القدر رسول (متی ۱۱