فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 243
w م ولفت پہلے ہی کمر زور کر دکھلاتا ہو جب اُن مذاہب پر تھوڑا ساطعن کا موقع مل گیا۔تو وہ علم الہ اور ابتدائی تنفرد بالوں کہو، اُن دوسے مذاہب کی ناواقفی اس خفیف طعن کے ساتھ ملکہ طعن کو قومی کہ دکھلاتی ہے۔یہی حالت مذاہب کی مباحث کی کتابوں کو مطالعہ کرنے سود کھلائی دیتی ہے۔اور یہی شکل تقریری مناظروں میں نظر آتی ہو۔اور منصف مزاج خدا تریس جزا سزا کے قائل لوگ نرا لاڈھنگ رکھتے ہیں۔اور انکو خداوند کریم کی خالص رضا جوئی قیامت کا محکمہ قضا اور رہی سنگ میں رنگین کرتا ہوں۔اور وہ صرف حق طلبی کا اصطباغ اور بیٹھا لئے رہتے ہیں۔انکو رحمت اللہ کی تحقیقات پر برانگیختہ کرتی ہے۔اسلیئے انکو بیجا تعصب اور نا مناسب حمایت حق کے قبول کرنے میں نہیں روک سکتی۔ایسے عیسائیوں کو عیسائیت یہ نہیں سکھلاتی۔کہ عیسوی بشارات کو بے وجہ قومی خوامخواہ مان لیں۔اور محمد یہ بشارات پر سوفسطائیوں کی طرح ضرور ہی اعتراض کر دیں۔اور ایسے ہی مسلمانوں کو اسلام ہرگز نہیں سکھلاتا کہ یہود کی طرح مسیح کی سچی اور واقعی بشارات پر شبہات پیدا کریں۔اور محمدی بشارات کے لئے جھوٹ کو ہتھکنڈہ بناویں۔میں نے جسقدر بشارات اور اور مضامین بحث کی ہو۔اپنے عندیتے ہیں نہایت انسان ہو کی ہے۔جاہلوں کی سی بیجا سمیت میرے دل میں نہیں - وَاللهُ عَلَى مَا نَقُولُ شَهِيدٌ - اور مجھے یقین ہو کہ وہ عادل اور رحیم اور قدوس میرا راستہ میری نیت کے نیک بیجوں کو اچھے اچھے پھلوں کا شہر درخت بنا دیگا۔او خدا تو ایسا ہی کر۔پھر یاد ہے کہ کسی نبی یا رسول کی نبوت اور رسالت ثابت کرنے کے لئے سابقہ انبیاء کی بشارات کا ہونا ہرگز ہرگز نا ز میں اور ضروری امر نہیں کیونکہ اثبات نبوت کیلئے بشارات کے سوا اور بہت دلائل ہوتے ہیں۔علاوہ بہ میں اگر بشارت کا ہونا اثبات نبوت میں شرط ہو تو سب انبیاء سے پہلے نبی اور رسول کیلئے بشارات اور پیشین گوئیاں کیونکر ہونگی، اسلیئے کہ پہلے نہیں کی نسبت بشارت دینے والا خود نبی ہوگا۔پس پہلا ہی پہلا نبی نہ رہا۔دیکھو نوح اور اب ہمیں