فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 242 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 242

محمد صاحب کے حق میں کوئی بشارت مندرج ہی نہیں۔میں خدا کے فضل سے انھیں مقدسہ مروجہ کتب میں سے محمد یہ بشارات کو نکال کر۔دکھلانا چاہتا ہوں۔گر قبل اسکے کہ محمد یہ بشارات کو بیان کروں۔مجھے مناسب معلوم ہوتا ہو کہ بشارات کی ضرورت اور عدم ضرورت اور انکا مقدمہ کتب میں ہونا یا ہونا۔اور انکی حالت کہ آیا وہ بشارات مفصل ہوتے ہیں۔یا مجمل بیان کر جاؤں۔اور پھر قبل اسکے کہ محمد یہ بشارات کو لکھوں چند عیسوی بشارتوں کو لکھ لو تو کہ محمد یہ بشارات پر اعتراض کر نیوالے عیسائیوں کے پاس بیجا تعصب سے بچنے اور انصاف پر آجانے کا عمدہ ذریعہ موجود ہے۔کچھ شک نہیں کہ ہر ایک مذہب کے پابند آدمی کو اپنا پسندیدہ مذہب بالکل لیے عجیب نظر آتا ہے۔اگر بے عیب نہ سمجھے تو اور مذاہب پر اپنے مذہب کو ترجیح دیکر اسے کیوں پسند کرے۔اور کیوں اپنے ہی مذہب کو باعث نجات یقین کرے۔اور اس بات میں بھی کچھ شک نہں کہ سر یک شخص کو جو کسی مذہبا یا ہرج ہے۔جب اپنے مقبول مذہب پر کوئی اعتراض سُنائی دیتا ہے۔تو اس اعتراض کے اُٹھا نے پر حتی الوسع بہت کوشش کرتا ہے۔اور اس مذہب کے پابند شخص کا قلب اس اعتراض کئے جواب دینے پر متوجہ ہو جاتا ہے۔اور نہایت اضطراب سے جواب کے ڈھونڈھنے پر غفل وہم سے کام لینے لگ جاتا ہے۔پھرا کر تھوڑا سا سہارا بھی موقع اختر اور اس کے لئے مل گیا۔تو اس یا بندہ مذہب کی پابند سابقہ محبت اور الفت اپنے مذہب سے اس جواب کے ساتھ مل کر کو جواب کیسا ہی کمزور ہو اُس جواب کو قومی کر دکھلاتی ہے۔اور دو سے باہر کیا حال اس پابند خاص مذہب کے سامنے اسکے بر عکس ہوتا؟ اس شخص کو جو ایک خاص مذہب کا باہتا ہے۔دوسرے مذاہب کی عدم الفت اور انکے احکام سر عادی نہ ہونے کے باعث ابتدائی تنفر آن دوسے مذاہب کو ان