فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 222
۲۲۲ میں اور سیح کے کلام اُن کی تاویل ( تاویل کے معنے کچھ ہی لو) ہے۔وہی تاویل قرآن میں کیوں نہیں کی جاتی۔انصاف کرو۔اسلام پر اعتراض کرتے ہو۔اسلام جسمانی لذائد کی طمع دیتا ہے۔سوچو تو سہی کتب مقدسہ میں کس قدر طمع دی گئی ہے۔اور صاف واضح ہوتا ہے کہ کتب مقدسہ کا طمع دینا صرف جسمانی ہی تھا۔کیونکہ یہود جو توریت کے اصل مخاطب ہیں اُن کے یہاں تو قیامت کے دجو دہی میں اختلاف تھا۔انصاف کرو جب قیامت میں جسم بھی لوگوں کو عطا ہوگا ت یہ گول مدل شہوانی آلہ کیا اُس وقت بے وجہ ہو گا۔یا اس کا کوئی فائدہ بھی ہو گا۔انسان دو اجزاء سے مرکب ہے۔ایک تفریح۔دوسرا جسم۔روح کی غذائر جانی چاہیئے۔اور جسم کی غذا جسمانی۔اور شنو ایوب ۲۰ باب ۱۵ شریہ بالشتیا سانپ کا زہر چہ سے گا۔اور افعی کی جیسے اُسے مار ڈالے گی۔وہ نالوں اور دریاؤں اور لکھن اور شہد کی نہروں کو دیکھنے بھی نہ پائے گا۔انتہی۔ایوب کی کتاب پر غور کرو میسیج کی اُس دلیل سے جو اُنہوں نے اثبات قیامت میں بیان فرمائی ہے۔اس سے بھی کسقدر قوی دلیل اثبات انهار و انعامات جنت پہ ہم نے بیان کی ہے۔میری تحریر کے ناظرین میں اگر کوئی خیال کرے تو قرآن کریم میں جن خوروں اور جوروؤں کا ذکر ہے۔اُن کی صفات میں كَوَاعِبَ أَتْرَا با اور لَمْ يَطْمِثْهُنَّ قبلهم ترجمہ ( نوجوان عورتیں ایک عمر کی اور نہ چھوا اُن کو پہلے اُن سے ) وارد ہے۔پس روحانی ٹوریں کیسے مُراد ہونگی۔اول ہم کہتے ہیں۔پھر کیا حرج ہے۔ہم تو کہتے ہیں یہ حوریں جسمانی حوریں ہیں۔