فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 217 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 217

PKL اس تعارف اور عد متعارف سے حیران ہو کر عیسائی مورخ کہتے ہیں۔ا سموئیل میں قصہ الٹ پلٹ گیا ہے۔مگر اس عذر پر بھی کچھ نہیں بنتا۔کیونکہ 14 باب میں برابط نوازوں میں ساول سے ملاقات کرنا پایا جاتا ہے۔متقدمین عیسائی کہتے ہیں۔اسموئیل ، باب آیت ۱۲- ۳۱- اور ۵ ۵۸ تک صحیح ۱۲- ۵۵ نہیں۔اسلئے سیپٹوا کینٹ کے قلمی نسخے اور کیٹن میں یہ آیتیں نہیں۔۱۷ باب ۱۸-۲۱ - اور - ا باب ۳۳ - ۴۰ کے مطابق نہ ہونے سے بعض ، اباب کو الحاقی کہتے ہیں۔صاحب اظہار عیسوی چھتیسویں فساد کے جواب میں کہتے ہیں۔بعض جا واقعات کا بیان تاریخ وار نہیں اور آگے پیچھے لکھا گیا ہے۔صفحہ ۲۴۶۔ایک اور نیا جواب نہر بحرکت را غالباً آرام اور وسعت کو کہتے ہیں۔پیش معنی یہ ہوئے ساول نے کہا خاتم کو آرام دیگا اور کھانے پینے کو بنی گا۔تم زیادتی نہ کرنا بقدر ضرورت لے لینا۔شرب اور طلحہ کا لفظ وسیع ہے۔مگر لوگ ٹوٹ پر ٹوٹ پڑے اور گناہ کیا۔اور اسکے بیٹے نے بھی کچھ کھایا۔اور قوم نے اُسے سزایاب نہ ہونے دیا۔دیکھو اسموئیل ۱۲ باب ۲۴-۳۶ پھر نہر کے معنے ندی کے ہی لیتے ہیں گھر قرآن میں یہ قول ساون کا مندرج ہو اور وہ عبری بولنے والا آدمی ہو اور عبری محاورے میں نہر کا لفظ قابل نخور ہے۔خروج ۳ باب دودھ اور شہد موج مارتا ہو گفتی ۱۶ باب ۱۳ - تو ہمیں اُس زمین سے جہمیں دودھ اور شہد بہتا ہو۔نکال لایا۔گنتی ۱۳ باب ۲۷ - جہاں تو نے بھیجا۔وہاں سچ مچ دودھ اور شہد بہتا ہے۔اب دیکھو۔اس سموئیل ۱۴ باب ۲۲- ساحل نے لوگوں کو کھانے پر قسم اور لعنت دی۔سب لوگ بن میں پہنچے اور وہاں شہر تھا۔روہی جو موج دار تا بتایا گیا، پوینشن ساول کے بیٹے نے عصا کی نوک سے شہد کے چھتے کو چھیدا اور ہاتھ میں لے کے منہ میں ڈالا۔اور بنی اسرائیل یو متن کے جانبدار ہوئے (گویا سب نے پیا)