فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 218
۲۱۸ ایک اور نیا جواب۔جالوت ہر ایسے آدمی کو کہتے ہیں۔جو میدان میں اکیلا نکل کر ڑے۔قرآن میں دو جالوتوں کا ذکر ہیں۔ایک رجسکی لڑائی مطالوت سے ہوئی۔اور ایک جالوت وہ جسے داؤد نے مارا۔قرآن پر غور کرو۔ولما برز و الجالُوتَ وَجَنُودِهِ قَالُوا بَنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبَرَ أَو تَبَتْ أَقدام وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ، فَهَرَ مُرُهُم بِاذْنِ اللهِ، سیپاره سوره بقره - رکوع ۳۳ یہاں وقف لکھا ہے اور اس بات کا اشارہ ہے کہ قصہ تمام ہوا۔اور آگے اور قصہ شروع کیا۔وقتل کہ اود جالوت عربی میں غالباً جب نکرے کا اعادہ ہوتا ہے۔تو وہ پہلا مراد نہیں ہوتا۔اسلامی تعلیم پر و اعتراض ہوئے ہیں انکے جوابات غالبہ اس کتاب میں دیئے جو ہیں صرف بہشتی نعمتوں کی نسبت کچھ ذکر نہیں کیا۔اب اس وقت ان پر سرسری نظر کرتا ا ہوں۔ناظرین غور سے دیکھیں۔عیسائی صاحبان تمہارا اعتقاد ہم حضرت کیے اصل میں خدا تھی۔اسی واسطے انکو خدا کا بیٹا کہتے ہو۔قدوس خدا نے جسکو کھانے پینے کی کچھ بھی ضرورت نہ تھی جب جسم سے تعلق پیدا کیا اور مجتم ہوں اور ان اللہ کہلایا تودنیا میں بلحاظ جسم دو کھاؤ پیو شرابی تھا۔بھلا جب ہم عام انسان قیامت کے روز مجسم ہونگے۔جیسے تمہارا بھی اعتقاد ہو۔تو ہم کو جسمانی نعمتوں سے کیوں محرومی ہوگی۔کیا ہم خدا سے زیادہ ہونگے۔تم کہتے ہو قرآن نے جسمانی ترغیبیں دیں۔میں کہتا ہوں۔کتب مقدسہ توریت و انجیل اس امر میں قرآن کی تصدیق کرتی ہیں۔دیکھو مقابلہ :- ے اور جب وہ لوگ لڑنے کو نکلے واسطے جالوت اور اسکے لشکر کے وہ کہنے لگے لے میرے مالک ڈال ہم لوگوں پر صبر اور ٹھہرا ہمارے قدموں کو اور فتح سے ہم کہ کافروں کی قوم پر پیس بھگا دیا ان لوگوں نے جالوت کو اور اس کے لشکر کو حکم خدا سے ۱۲۔-