فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 193 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 193

۱۹۳ حج میں بمقام عرفات پڑھا۔وَ دِمَاء الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةً تحت قدرى۔فِي جواب۔یہ جواب گو الزامی جواب ہے مگر ہم نے اس بارے میں مسیح کے اقوال کی پیروی کی ہے کہ الزام مت لگاؤ تاکہ تم پر الزام نہ لگایا جادے۔اور نیز الزامی جواب اس لئے بھی اختیار کیا جاتا ہے کہ معترض ان مسلمی و مالوہ کتابوں سے اس قسم کے اشتباہ کو رفع کرے۔اب جواب سنیئے۔مستی اعتقاد میں منع ملعون ہوا د نعوذ باللہ اور ملوں کا ٹھکانا جہنم ہیں دیکھ حل الاشكال اور پو لوس نامه گلتیان ۳ باب ۱۳ بجو کاٹھ پر لٹکایا جائے وہ ملعون ہو۔اور نیز مسیحی اعتقاد میں مسیح خدا ہیں اور رب العزة بھی ہیں (صاحب عزت نہیں معنے نم کو تسکین نہ ہوگی جب تک عیسائیوں کے خدا اس میں قدم نہ رکھیں اب سارے جوابوں کی آپ ہی کوشش کریں۔حاصل الامر چونکہ پادری صاحب نے حدیث کا مطلب غلط سمجھا۔اور بطور بنائے فاسد على الفاسد اُس سے غلط استنباطات کیئے۔پس انکے اعتراض کے باقی شقوق بھی بیکار و معطل ہو گئے۔اس لئے ہمیں اُن شقوں پر فضول خامہ فرسائی کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ فاسد مقدمے کا نتیجہ لابد فاسد ہی ہوا کرتا ہے۔اگر قدم کے معنی پاؤں لیں۔جیسے عام مشہور ہو تب بھی اعتراض نہیں رہتا اور عیسائی مذہب کے طور پر ہرگز محل اعتراض نہیں۔دیکھو خروج ۱۳ باب ۲۱۔خدا آگ کے ستونوں ہیں۔اور خروج ۱۹ باب ۱۸ اور استثنا - باب ۳۳ - آگ کو خُدا کا قدم نہ جلانے میں بخلاف اور لوگوں کے بے ریب امتیاز ہو۔دیکھو استثناہم بابا۔پہاڑ جلا پر خدا نہ جلا اور اتناہم باب ۳۶ میں۔خدا آگ میں کلام سنانا تھا۔اور دیکھو دانیال ۳ باب ۲۵ - خدا کے چند پیارے کھلے آگ میں پھرتے تھے اور اگر انہیں نہیں جلاتی تھی۔اور قانون قدرت میں دیکھو آگ ذرات عالم کو نہیں جلا سکتی۔آگ کا کام تو چند اشیاء کو جلانے کا ہے وہ اشیاء جو الہی