فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 187
يَا هَامَانُ ابْنِ لِي صَر حا- سیپاره ۲۴ سوره مؤمن - رکوع ۴ - اعتراض - سوره یونس ۹ رکورع ۸۷ - آییت - موسیٰ اور ہارون بھیجے گئے کہ اپنی قوم کے گھروں کے منہ رو بقبلہ بنا دیں۔یہ باطل ہے کیونکہ کتب سماوی سے ظاہر ہو کہ موسی کو خدائے اسلیئے بھیجا کہ قوم بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے چھوڑا کر ملک کنعان میں لابساتو نہ یہ کہ مصر میں رہنے دے۔دیکھو خروج ۳ باب ، سے ، اتک۔جواب۔اس با ایمان معترض سے کوئی اہل انصاف پوچھے کہ قرآن کی کس آیت کا لفظی ترجمہ اس نے کیا ہو۔حقیقت میں اسے بڑھ کر کیا دھوکے بازی ہو سکتی ہو کہ اپنے زعم میں ایک بات کو ادھر اُدھر سے کاٹ کر اس طرح پیش کرنا اور عوام کو جتنا کہ گویا مقصود مصنف یا کلام مصنف ہے۔قرآن میں کہیں نہیں لکھا کہ موسیٰ اور ہارون اسلیئے بھیجے گئے تھے الخ جیسا معترض نے اعتراض میں پیش کیا ہے۔قرآن میں بھی بالکل وہی مطلب اور وہی مضمون ہے جو خروج میں لکھا ہے۔فَاتِيَا فِرْعَوْنَ نَقُولا إِنَّا رَسُولُ رَبِّ الْعَلَمِينَ ، أَنْ أَرَضِيلُ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ سیپاره ۱۹ سوره شعرا - رکوع ۲ - وَلَقَدْ فَتَنَا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَاءَ هُورَ سُول كريم آن ادا الى عِبَادِ كَرِيمَ اَنْ اَدُوا الله اِنّی اَدرُ رَسُولُ آمِين - سیپاره ۲۵۔سورۂ دخان - رکوع ۱ رکو فَاتِيَا فَقُولَا أَنَا رَسُولَا رَبِّكَ فَأَرْسِلْ مَعْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا تُعَذِّبُهُمْ سِيَارَهُ سُوطه ے اسے ہامان میرے لئے ایک محل معیار کہا۔مسلے پس جاؤ فرعون کے پاس اور کہو ہم پیغام لائے ہیں اس کے صاحب کے کہ بھیج سے ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو سنے اور ہر آئینہ آزمایا ہم نے ان سے پہلے فرعون کی قوم کو اور آیا ان لوگوں کو رسول بزرگ کہ حوالے کر وطرف میرے اللہ کے بندوں کو ہر آئینہ میں تم لوگوں کا امانتدار اور رسول ہوں " سکے سو جاؤ تم دونوں اُس کے پاس اور تم دونوں کہو کہ ہم دونوں تیرے پر وردگار کے بھیجے ہوئے ہیں اور تو بھیج ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو اور اُن کو دُکھ نہ و۔وست ۱۷