فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 165
۱۶۵ جواب - اصل آیت جس پر اعتراض ہے یہ ہے۔قَالُوا اقْتُلُوا ابناء الَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ وَاسْتَحْيُوا نِسَاءَ هُمْ وَ مَا كَيْدُ الْكَافِرِينَ الا في ضَلَالٍ - سیپاره ۲۴- سوره مؤمن - رکوع ۳ - میں انصافا اور حفاظ کہتا ہوں کہ یہ اعتراض محض نادانی اور قرآن کے طرز اور زبان نہ سمجھنے سے پیدا ہوا ہے۔خوب یادرکھنا چاہیے کہ صیغہ امر ہمیشہ کسی فعل کے وقوع کو مستلزم نہیں ہوا کرتا۔قرآن کی اس آیت سے یہ کہاں پایا جاتا ہے کہ فرعون نے انہیں قتل کر ڈالا نصائح کی عادت میں داخل ہو کہ دھوکا دہی کے طور پر ایک ترجمہ فرضی اور ذہنی لکھ دیتے ہیں۔جو اصل کلام منقول عنہ سے کچھ بھی مناسبت نہیں رکھتا۔اس سے بجائے اس کے کہ اُن کا مقصود اغوا و اضلال بر آرے اہل انصاف کے نزدیک اُن کی اصلیت باطن اور غرض ظاہر ہو جاتی ہے۔اگر زبان عرب سے ذرا بھی مس ہو۔اور قرآنی طرز سے کچھ بھی واقفیت ہو تو باد نے تامل آشکار ہو سکتا ہے کہ آیت کا پچھلا حصہ معترض کے اعتراض کو باطل کئے دیتا ہو کہ کافروں کا کنید یعنی دھو کے اور فریب کی تدبیریں اکارت ہو جانیوالی ہیں، قرآن مجید کا یہ طرز ہے کہ جب منکروں اور کافروں نے خدا کے کسی برگزیدہ شخص کی نسبت ایذا رسانی یا قتل وغیرہ کا منصوبه باندها در خفیہ تدبیریں کیں۔مگر بوجہ من الوجوہ ان کی تدبیریں کارگر ہوئیں۔اور وہ برگزیدہ شخص اُن کے ابتلا کے دام سے محفوظ رہا۔اس وقت قرآن میں شخص یا اشخاص کے سلامت رہنے اور دشمنوں کی تدابیر کے کارگر نہ ہونے کو اسی طرح پر لفظ کید کے اطلاق سے ذکر کرتا ہے کہ انہوں نے تدبیر کو کی اور منصوبہ تو باندھا نگران کا نہ لے بولے مارو بیٹے اُن کے جو یقین لائے ہیں اس کے ساتھ اور جیتی رکھو اُن کی عورتیں اور چھ داؤں ہے منکروں کا سوغلطی میں "