فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 155 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 155

۱۵۵ ر غزل الغزلات ، باب ۱۰ ده باب ۱) مجھے اسوقت مولوی لطف اللہ لکھنوی یاد آگئے۔اُن سے بھی ایک پادری صاب نے مجمع عام میں یہی سوال کیا تھا۔آپ نے کیا خوب ہو اب دیا۔۔۔سارے راستباز خدا کے فرزند ہیں تو یوسف نجار بھی فرزند تھا۔پھر اسکی مورو سے خدا نے فرزند لیا۔پس اگر اس کے رسول نے لیپالک کی بی بی مطلقہ سے نکاح کیا۔تو کیا عیب کیا۔اگر جماع عیب ہے، تو ایک عضو کی نسبت سارے کوچے خدا کا رحم میں از راه پہلا جانا اور پھر مجسم بن کر نکل کر کھڑا ہونا تو شاید اور بھی معیوب ہوگا۔زید نے تو طلاق کبھی دے ڈالی تھی۔یوسف سے تو کسی نے براءت نامہ بھی نہ لیا۔ہاں شاید الوہیت اور رستا میں بھی فرق ہوگا۔کہ اس میں طلاق کی ضرورت نہیں رہتی یہ کتب مقدسہ کے محاورات تمہیں تعجب انگیز معلوم نہیں ہوتے کے میری زوجہ اے میری بہن تیرا عشق کیا خوب ہے۔تیری محبت کے سے کتنی زیادہ لذیذ ہے۔حقیقی جواب۔اصل قصہ یوں ہے کہ زینب ایک بڑے خاندان کی عورت تھی۔آنحضرت نے اپنے خادم زید کے لئے اُس کے وارثوں کو ناتے کا پیغام دیا۔وہ اپنی عظمت اور شرافت شان کے خیال سے اول تو ناراض ہوئے پھر آخر کار راضی ہو گئے۔کچھ مارت تو جوں توں کر کے بسر ہوئی۔آخر زید نے اسکی تعلی اور طنز و تعریض ستر تنگ آکر اُسکے چھوڑ دینے کا ارادہ ظاہر کیا۔چونکہ آپ بذاتِ مبارک اس شادی کے انصرام کے متکفل ہوئے تھے۔اس لئے اس طلاق کے انجام اور اُسکے مفاسد پر قومی دستوروں اور حالات معاشرت ملکی کے لحاظ سے آپ کے دل میں کھٹکا پیدا ہوا۔اسمیں شک نہیں کہ رفتہ جو کفار اور حیاہ طلب معاندین کو رسما و عرفا ایسے موقع پر بہت ملامت و طنز کا قا بول سکتا تھا۔اور آپ گوارا نہیں کر سکتے تھے کہ اس مفارقت اور معاشرتی نا چاقی کا حال مخالفین منکرین پر کھلنے پائے جو انکی زبان درازی اور تعریض کا باعث ہو۔اور نیز زینب کے وارثوں کا خیال ایک رسمی اور قومی خیال تھا جو آنحضرت صلعم کے دل کو