فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 146 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 146

آخر قوم کے اتفاقات سے یہود نے ایک سفیر جناب رسالتمآب کے حضور روانہ کیا۔اور کہا ابولبابہ بن منذر کو ہمارے پاس بھیجے ہم اس سے صلاح لینگے۔جب ابولبابہ انکی درخواس سے وہاں آئے۔عورتیں اور بچے چلائے اور یہود نے کہا۔کیا تیری صلاح ہے۔ہم لوگ محمد کے فیصلے پر دروازہ کھول دیں۔اُس نے کہا بیشک نگر اشارہ کیا وہ تمکوذبح کا فتویٰ دینگے پھر ابو لبابہ بچایا اور اپنے آپکو مسجد میں جا باندھا۔جب محاصرے پر مدت گذری اور وہ یہود تنگ ہوئے۔تو ان کمبخت لوگوں نے کہلا بھیجا۔ہماری نسبت جو سعد بن معاذ فیصلہ کرے وہ فیصلہ ہمکو منظور ہے۔بدقسمتوں نے حرمت العالمین کو حکم نہ بابا بلکہ حد کے فتوے پر راضی ہو گئے اور قلعے سے نکل آئے۔رسول خدا نے سعد بن معاذ کو بلایا اور کہا یہ لوگ تیرے فیصلے پر ہمارے پاس آئے ہیں۔اس سپاہی کو اس قوم کی بد چلنی اور بد عہدی اور ناعاقبت اندیشی اور بنو قینقاع اور بنو نضیر سے عبرت نہ پکڑنے پر یہی سوجھی کہ اس بد ذات قوم کا قصہ تمام کرو۔اس نے کہا۔ان کے قابل جنگ لوگ مارے جاویں۔اور باقی قید کئے جاویں۔غرض کئی سو آدمی قریظی مدینے میں لا کر قتل کیا گیا۔" مانا انسانی فطرت کا خاصہ ہے۔چاہے کوئی کیسے جرائم اور معاصی کا مرتکب ہو جب اُس سے کوئی ایسا سلوک کیا جائے جو ہمارے نزدیک سختی اور بے رحمی ہو۔تو اسوقت ہیں خواہ مخواہ ایک نفرت اور کراہت معلوم ہوتی ہیں اور ہمارے دلمیں رحم عدل کی جگہ کو چین لیتا ہے۔مگر رحم کے باعث عدل چھوڑنا۔اور جرائم کی سزا سے درگذر نہ چاہئیے۔یہود نے دغادی۔بد عہدی کی۔عین شہر کا امن کھو دیا مسلمانوں کی توحید اور موسی و توریت کی تعظیمی ثبت پرست قوم کے مقابلے میں بھولا دیا۔بہر حال مسلمانوں کا حکم قریظہ کی نسبت گرامول کے حکم سے بہت کم تھا جس کے بموجب آئرلینڈ میں شہرورڈ ہیڈا کے سب باشندے بلا فرق تہ تیغ بے دریغ کئے گئے کار لائل لکھتا ہو۔سچ ہے شریر کا سو مرتبہ قتل ہونا بہتر ہے کہ وہ بے گناہوں کو اغوا کر ہے۔یہ اسلام کا فعل اسوقت کے مارشل لاء سے