فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 143
۱۴۳ دن کے بعد انہوں نے صلح چاہتی۔مگر عبداللہ بن ابی منافق نے کچھ اپنی امداد کا ایسا حکم دیا کہ پھر باغی بن بیٹھے۔اسلئے پھر محاصرہ کیا گیا۔بہت دنوں بعد لا چار ہو کہ جلا وطنی پر راضی ہوگئے رسیال خدا کو جبر و اکراہ سے مسلمان بنانا منظور ہی نہ تھا، انکو اجازت دیدی۔مدینے سے چلے جاویں اور مدینے کو امن و امان کا محل بنایا اور وہ خیبر کو چلے گئے۔غزوہ قریظہ۔خندق اور احزاب کی لڑائی میں تم دیکھ چکے ہومشرکوں کے مختلف گرو اور یہودی اور غطفانی خاص مدینے میں اسلامیوں پر چڑھ آئے۔حیی ابن اخطب یہودی، بنو نصیر کی جلا وطنی کے بعد قریش کو تشخیص دیتا۔اور کنانہ ابوالحقیق کا پوتا خطفانیوں کو اکسایا اور ان سے وعدہ کیا۔خیبر کی آمدنی سے نصف آمدنی میں دونگا اگر مسلمانوں پر حملہ آوری کرو۔سلام بن مشکم اور ابن ابو الحقیق اور خیبی اور کنانہ یہ سب بنو نصیر ستے میں پہنچے اور کہا ہم تمہارے ساتھ ہیں اگر تم اسلام پر حملہ آوری کردیله ان یہودیوں کی کارستانی اور عبادو بیانی قریش کے غیظ و غضہ سے ملکر تمام عرب کو مدینے پر چڑھا لائی۔جب یہ مختلفہ اقوام بغرض استیصال اسلام مدینے میں پہنچے۔جیتی این اخطب یہودی میری نفری کعب بن اسد قرظی ریشخص بنو قریظہ کا ہم عہد تھا، کے پاس پہنچایا پہلے تو کعب نے جی کو گھر میں گھٹنے نہ دیا اورکہا ہمارا اور اسلامیوں کا باہم معاہدہ اور اتحاد ہے۔اور بنو قینقاع اور بنو تفسیر پر جو کچھ بدعہدی کا وبال آیا اُسے یاد کیا۔مگر جی نے کہا۔میں تمام قریش اور ھر کے مختلف قبائل کو مدینے پر چڑھا لایا ہوں۔اور ان تمام اقوام عربنے عہد کر لیا ہے کہ جب تک اسلام کا استیصال نہ کرلینگے مدینے سے واپس نہ جائیں گے کہ بنے کہ نہ پہلے پہل بہت ٹالہ ٹالا کیا اور کہا۔محمد بڑا راستگو راستی پسند انسان ہے اور عہد کا بڑا پکا ہے بہت مالا مال کیا اور اورعہد بڑا ہم کو مناسب نہیں اُسکے ساتھ بد عہد نہیں مگر آخر دشمنوں کی کثرت اور اُنکے استقلال کو دیکھ وری کے پھسلانے اور عداوت اسلام کی قدیم بدعہدی میں آکر باغی بن گیا اور تمام عہدوں اے زرقانی جلد ۲ صفحه ۱۳۳-۱۳۵ - ۱۲۱