فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 126 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 126

۱۲۶ نہ ملنا مشرکین کو اپنی کثرت پر بڑا گھمنڈ تھا۔اپنے بتوں کو قلب لشکر میں رکھ کر وہ فوراً میدان میں چلے آئے۔اور اُن کے سرداروں کی بیبیاں لڑائی کے گیت گاتی اور ڈھول بجاتی تھیں۔قریش نے بڑے زور وشور سے حملہ کیا۔مگر مسلمانوں نے بڑی بہادری سے انکو پس پا کر دیا حضرت حمزہ لشکر کفار کو پریشان دیکھ کر قلب لشکر میں گھس گئے۔گو یا مسلمانوں کی فتح ہو چکی تھی۔کہ عبداللہ بن جبیر کے ساتھی آنحضرت کے حکم کو فراموش کر با مید مال غنیمت مورچہ چھوڑ نیچے اتر آئے۔دشمن مورچہ خالی دیکھ سواروں کو سمیٹ فوج اسلام کے عقب پر آگرے جنگ عظیم ہوئی۔حضرت امیر حمزہ اور عبد اللہ بن جبیر شہید ہوئے۔حضرت علی اور حضرت عمر اور حضرت صدیق رضی اللہ عنہم بھی مجروح ہوئے۔ہندہ بنت عتبہ زوجہ ابوسفیان نے امیر حمزہ کا جگر چیر کر چھایا۔اور مسلمان مقتولوں کے گوش و بینی کاٹ کر اور اُسکے ہار بنا کر گلے میں پہنے۔یہ بے ادبیاں شہیدوں کی لاشوں سے دیکھ کر مسلمانوں کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔یہانتک کہ خود آنحضرت پر ایسی رقت طاری ہوئی۔اور ایسا غیظ آیا کہ آپنے بھی حکم دیا کہ اب جو تمہاری فتح ہو تو تم بھی کفار کی لاشوں سے ویسا ہی سلوک کرنا۔چنانچہ اپنے عز یز ماں منشار چچا کو دیکھ کر فرمایا۔لامثلن بسبعين منهم مكانك - یعنی تیرے عوض میں اُنکے ستر کو مثلہ کرونگا۔مگر فطری رحم جبلی لینت نے بشری عارضی غضب پر غالب آگر آیت ذیل کے نزول کی تحریک کی ان عاقبتُهُ فَعاقِبُوا بِمِثْلِ مَا هُوَ قِبْتُم بِهِ ، وَلَئِن صَبَرْتُمْ لَهُوَ امیر حمزہ خير للصَّابِرِينَ - سیپاره ۱۴ - سوره نحل - رکوع ۱۶ - ایسے موقع اور ایسی حالت میں یہ صبر سُبحان اللہ۔سچ ہے۔ما ارسلناك إلا رحمة للعالمين - سیپاره ، سوره انبياء - رکوع اے زرقانی بر مواہب لدنیہ جلد ۲ صفر ۶۰ ۶۱ - ے اگر تم سزا دینی چاہو تو بس اتنی ہی جلتی تمہیں تکلیف دی گئی۔اور اگر تم برداشت کر جاؤ یہ امر صابرین کے لئے بہت اچھا ہے " ہے اور نہیں بھیجا ہم نے تم کو رائے محمد ) مگر رحمت واسطے تمام جہان کے ۱۲