فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 121 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 121

۱۲۱ أذِنَ لِلذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ الله عَلى نَصْرِهِمْ لَقَدِيدُ اللَّذِينَ أخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ بِغَير حَق إِلا أَن يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِمَتْ صَوَامِعُ وَبَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَا جِديد كر بيها وَمَسَاجِدُيدٌ اسم الله كثيرا - سوره حج - سیپاره ، رکوع ۶ - کی غزوات نبوی مدیة آپ کے مغازی میں پہلا غزوہ وہ ان کا غزوہ ہے یہ جگہ کا نام سر اور اس مقام کے پاس چھ میل کے فاصلے پر ایک جگہ ابوا نامہ ہے اسلئے اس غزوے کو غزوہ ابو بھی کہتے ہیں، یہ لڑائی قریش مکہ سے ٹھنی مگر جنگ نہوئے پانی اور بنو عمرہ نامہ قوم سے اس شرط پر صلح ہوئی کہ بنو ضمرہ صاحب اسلام سے نہ لڑائی کریں اور نہ اس سے لڑنے والوں کے شریک و معاون ہوں۔غزوات نبومی غزوہ بواط ربواط ایک پہاڑ کا نام ہے مدینے سے چار منزل پر یہ جنگ بھی غزہ تصرف قریش سے ہوئی۔نہیں بلکہ ہوتے ہوتے رہ گئی ہے غزوة العشيره رعشیرہ ایک گاؤں کا نام ہے منبع کے پاس یہ جملہ بھی صرف غزوہ قریش پر تھا۔مگر لڑائی نہ ہوئی۔اور بنو مالج سے جو کنانہ میں سے تھے صلح کی ٹھہری۔اور مضمون صلح کا یہ تھا کہ بنو رج کے جان و مال کو امن ہو گا اور مصائب کے ہنگام پر انکی امداد کیجا دیگی۔بشرطیکہ اہل اسلام سے نہ لڑیں اور مسلمانوں سے متفق رہیں۔بخاری نے ے حکم ہوا ان کو جن سے لوگ لڑتے ہیں۔اسواسطے کہ این ظلم ہوا۔اور انشانکی مد کرنے پر قادر ہورہ مین کو نکالا نکے گھروں سے اور کچھ دعوئی نہیں سوائے اسکے کہ وہ کہتے ہیں ہمارات اللہ اور اگر نہ ہٹا کرتا ان لوگوں کو ایکے ایک سے تو ڑ ہائے جاتے تکئے اور مدرسے اور عبادت خانے اور مسجدیں جن میں نام پڑھا جاتا ہے اللہ کا بہت ۱۲ ابن هشام جلد ۲ صفحه ۲ ۱۳ ابن ہشام جلد ۲ صفحه ۱۲۵ سکه ابن هشام جلد ۳ صفحه ۶ سے