فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 117
116 فیصلے کی بابت قرآن میں یوں آیا ہے۔إِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُ وا لِيُثْبِتُوكَ اَويَقْتُلُوكَ اَوْ يُخْرِجُوكَ ، وَيَمُكُرُ اللهُ وَالله خَيْرُ الْمَاكِرِينَ سُوره انقال - سیپاره -4 رکوع - - آپ کے پکڑ لانے پر نٹو اونٹ کا انعامی اشتہار دیا گیا۔عرب مفلس جنگجو اور تو اونٹ کا انعام خوب قابل لحاظ ہے۔۔۔۔۔خدا کے فضل سے آپ تو مدینے میں پہنچ گئے۔اور بڑے اعزاز و اکرام سے وہاں قبول کیئے گئے۔اُسوقت سے قریش اور انکے شرکا نے یہودوں کے بغض و عناد سے مسلمانوں کو اپنی حراست اور حفاظت نہایت بیدار مغربی کے ساتھ کرنی پڑی سبحان اللہ ایک چھوٹے سے شہر پر ہزارہ قبائل عرکے متفق و متواتر حملوں کو روکنا پڑا۔پس ایسے مہنگام میں سخت تدارک کرنے کی ضرورت ہوتی تھی۔تاکہ مسلمانوں کے گروہ کا وجود باقی رہے۔ادھر لگتے ہیں جو غریب سلمان رہ گئے تھے۔انکی چشم دید تکالیف یاد آ کر آپکو سنج دیتی تھیں اسپر باریتعالے کو رحم آیا۔اور انسانی دفاع وحمایت کر نیو الے نے یوں بیدار فرمایا۔وَمَا لَكُمْ لا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا احْ جَنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهلُهَا وَاجْعَلْ لنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيَّادَ وَ اجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا - سوره نساء پاره رکوع ۱۰ اور قتال کی پہلی اجازت دینے والی آیت اتری :- لے جب کافر یہی بابت تجویزیں خفیہ لڑا رہے تھے کہ تجھے قید کریں یا نکالدیں یا مار ڈالیں اور اللہ بھی تجویز کر رہا تھا اور اللہ تدابیر میں سب پر غالب ہے ۱۲ اور تم کو کہا ہے کہ نہ لڑو اللہ کی راہ میں اور واسطہ اُن کے جو مغلوب ہیں مرد اور عورتیں اور لڑ کے جو کہتے ہیں اے رب ہمارے نکال ہم کو اس بستی سے کہ ظالم ہیں اُس کے لوگ اور پیدا کر ہمارے واسطے اپنے پاس سے کوئی حمایتی اور پیدا کر ہمارے واسطے اپنے پاس سے مدد گار۔