فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 99 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 99

٩٩ یعنی لائف لکھی ہو۔آپ پڑھن کرنا انہوں نے اپنا شعار کہ لیا ہے اور انکے طعن کی وجہ فقط می علوم ہوتی ہو کہ آپنے اپنے تئیں اور اپنے رفقا کو دشمنوں کے حملوں سے بچایا۔یہ سچ ہے کہ بعض برگزیدگان خدا دنیا میں وقتاً فوقتاً پیدا ہوئے ہیں۔اور سوء اتفاق اور گردش تقدیر سر خدا کی راہ میں اور اعلائے کلمۃ اللہ کی کوشش میں شہید ہوئے ہیں۔اور بعض لوگ ایسے بھی گذرے ہیں۔جنہوں نے خلل دماغ کی وجہ سے اس امر کا دعوی کیا جس کی تکمیل اُن سے نہ ہوسکی۔الغرض مخبوط بھی گذرے ہیں اور مجذوب بھی ہوئے ہیں جنہوں نے اپنی مجنونانہ حرکات کی سزا پائی مگر اُس سے یہ کہاں لازم آتا ہو کہ مثلاًاگر حضرت مسیح مصلوب ہوئے یا مسیلمہ کذاب اپنی کہ بہیت اور مجذوبیت کی سزا کو پہنچا تو معاذاللہ آنحضرت صلح کو بھی ان کی تقلید کرنا فرض تھا۔اور بغیر اپنی رسالت کے اتمام و تکمیل کے شہید ہو جانا لازم تھا۔وانین اسلام کے مافی قسم کی آزادی در می اورمذہب والوں کو خشی گئی و سلطنت اسلام کے مطیع و حکوم تھے ا الراءَ فِي الدِّينِ (سوره بقره سیپارہ (۳) دین میں کوئی اجبار نہیں۔یہ آیت کھلی دلیل اس امر کی ہے کہ اسلام میں اور اہل مذاہب کو آزادی بخشنے اور اُن کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم ہے۔ان تَبرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمُ انَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ سُوره ممتحنه بارة یہ آیت کسی بے قابو مجذوب کا قول نہیں ہے۔نہ کسی فلسفی کا خیال خامہ ہے۔بلکہ اس شخص کا فرمودہ ہے۔جوالسیسی سلطنت کا بادشاہ تھا جو اتنی قدرت رکھتی تھی۔اور جس کا انتظام ایسا عمدہ تھا کہ جیسے اُصول کو چاہتی نافذ کر سکتی تھی۔اور فرقوں اور اشخاص نے دین میں بھی اور سیاست مدن میں بھی مذہبی آزادی بخشنے کی ترغیب دی ہے۔گر اسکے عملدرآمد کی تاکید صرف اُس وقت تک کی ہے۔جب تک وہ خود ہے قابو اور کمزور رہے ہیں لیکن شارع السلام نے ند مہبی آزادی کی ترغیب ہی نہیں دی بلکہ اس کو احکام شریعت میں داخل کر دیا ہو۔رسول اللہ کے احسان کرو تم اُن سے اور انصاف کر و طرف اُن کے تحقیق اللہ دوست رکھتا ہے انصاف کرنیوالوں کو ۱۳