فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 94
۹۴ ضرر نہ دے سکیگا۔اول تو ایسی پیشینگوئی کوئی صاحب مذہب اپنی مقدس کتاب میں بہتا ہے۔پھر اُس کی تصدیق کر دکھائے۔مردوں کو زندہ کرنا آپ کا عام کام تھا۔سنو قرآن کہتا ہے۔يايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ستَجيبُو اللَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ سوره انفال - پاره ۹ - رکوع ۱۹ مسیحی طرز کے کرشمے آپ کے اسقدر ہیں کہ شمار میں نہیں آسکتے۔اور پھر انجیلی بو سے کہیں زیادہ ثبوت رکھتے ہیں۔کیونکہ ہزاروں اولیائے کرام اور مشائخ عظام گذرے۔جن کے کرامات اور خوارق عادات اُنکے مریدوں نے اپنے چشم دید واقعات کر کے اُن بزرگوں کی زندگی میں لکھے ہیں۔اگر پادری لوگ دو میں بھوں یا جگروں کی تحریر یہ بایں خیال کہ انہوں نے چشم دید واقعات کو مسیح کے زمانے میں قلمبند کرلیا تھا یقین کرتے ہیں۔اور حدیث پر اس لئے اعتماد نہیں کرتے کہ وہ صحابہ کے زمانے میں قلمبند نہیں ہوئی۔تو اسلامی اولیا اور صلحاء کے کرامات اُن کے مُریدوں کے ہاتھ سے مشائخ اصحاب کرامت کے وقت کے لکھے ہوئے موجود یں۔پھر نہ تو انکار کی کوئی وجہ اور بیان نہیں کرینگے۔ان کرامات کوتسلیم کریں اور چونکہ یہ سب کرامات محمد رسول اللہ کے اتباع سے حاصل ہوئے ہیں۔ان میں ان کا وجود یوجہ اتم ماننا پڑیگا۔اگر انصاف اور خدا کا ڈر ہو) ایک پادری نے ان دنوں ایک رسالہ لکھا ہے۔اور معجزے کو مرادف کرامت خیال کر کے رسالت مآب کو لے کر امت کہا ہے۔صاحب کرامت کے معنی عربیت والے کے ہیں۔اور محمد صاحب ایسے معزز ہوئے جن کی عزت کی نظیر تمام دنیا میں نہ پاؤ گے۔کیا کانٹوں کا تاج اُن کو پہنایا گیا۔کیا انہوں نے طمانچے کھائے۔کیا ان کو سر کہ پلایا گیا کہ بے کرامت ہوئے۔خیر ہم اُن کے بے کرامت رسالے کو انشاء اللہ تعالیٰ انھی طرح ذلیل کرینگے۔واللهُ يَقُولُ الحَقِّ وَهُوَ يَهْدِ والسَّبِيلَ۔ے ایمان والو انو حکم الہ کا اور رسول کا جسوقت بلاہ سے تم کو ایک کام پر جس میں تمہاری زندگی ہے ؟