فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 371 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 371

61 - اور خروج 19 باب ۱۰۔" اور خدائے موسی سے کہا کہ لوگوں کے پاس جا۔اور انہیں پاک کر۔اور اُن کے کپڑے دھلوا۔اور تیسرے دن طیار رہیں کہ خدا وند تیسرے دن لوگوں کی نظروں میں کوہ سینا پر اُتر آئیگا اسلامی شریعت کے احکام سے انہیں مقابلہ کر لو۔صاف کھل جائیگا۔اسلامی شریعت نے روحانیت کی کیسی توجہ دلائی ہے۔ذرا سنگ یا پانی چھڑکنا۔اور چالو بھر میں۔کفار سے والی بادشاہت میں داخل ہونے کی شرط قرار دی گئی ہے۔اسپرسوم ظاہری سے انکار با قرآن کیئے۔اسکے مقابل میں کیا فرماتا ہے۔صبْغَةَ اللهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ الله سبعة - سياره ١- سوره بقر رکوع ۱۶ یہی اعتقاد قدیم سے مسلمانوں میں چلا آیا ہے۔کہ طہارت باطنی ہی راسا مطلوب ہے۔چنانچہ اسلام کے قدیم فلاسفر امام غزالی نے اُن لوگوں کی نسبت ہو صرف ظاہری طہارت پر مرتے ہیں اور جن کے قلوب کبرو ریاء سے بھرے ہوئے ہوتے میں لکھا ہو کہ رسول اللہ صلعم فرمایا کرتے تھے کہ سب سے اہم اور اعظم طہارت پاک کرنا دل کا ہے تمام کری خواہشوں اور بیہودہ رغبتوں دل اور دفع کرنا ہے نفس سے تمام مکروہ و مذموم خیالات کو اور ان تصورات کو جو انسان کے میل کو خدا کی یاد سے باز رکھتے ہیں۔جب ہم نے اتنا ثابت کر دیا کہ قلبی حالت اعضا و جوارح کو حرکت دیئے بغیر رہ نہیں سکتی۔اور یہ کہ ظاہر و باطن میں لازم و ملزوم کی نسبت ہے۔تو گویا نفس ارکان نماز سے کچھ بحث نہیں۔کیونکہ جذبات قلب اور اسکی واردات کا ظہور اور کیفیت روحانی کے عروض کا ثبوت انعضا و جوارح کی زبان حال ہی سے ہل سکتا ہے۔البتہ گفتگو اس امر میں رہ جاتی ہے کہ آیا یہ ہیئت مقتضائے فطرت انسانی سے مناسبت رکھتی ہے یا نہیں۔یا اس سے بڑھ کر اور پسندیدہ صورت و ترکیب فلان قانون اور فلاں مذہب میں رائج ہو یا اب نئی صورت وہم و تصور میں آسکتی ہے۔اے رنگ اللہ کا اور کس کا رنگ اللہ سے بہت ہے ؟