فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 333
۳۳۳ ویسے ہی اس نبی کے عاصی اور مخالف بھی تنہاہ اور ہلاک ہو جائینگے۔اور پھر فرمایا۔وَمَا كَانَ اللهُ لِيُعَنِ بَهُمْ وَأَنتَ فيهم - سیپاره ۹ - سوره انفال رکوع ۲ - پھر اس پیشین گوئی کا وقت صاف صاف بتا دیا۔اور اس کی حمد باندھ دی کو حدی کردی۔فرمایا - قُلْ لَكُمْ فِيهَا دُ يَولَا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ ، سیپاره : ۲۲ - سوره سبا - رکوع ۳ - پھر اور توضیح و تصریح کی منہ مایا۔وَإِن كَادُوا لَيَسْتَفِرُ ونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا وَإِذْ أَلَّا يَلْبَثُونَ خلا فك إلا قليلاه سیپاره ۱۵ - سورۂ بنی اسرائیل- رکوع ۸ - اللہ اللہ یہ پیشین گوئی کیسی گوری ہوئی۔عادت اللہ قدیم سے اس طرح پر جاری ہو کہ پیشینگوئی جن قوموں نے ہادیان برحق کے نصائح نہ سنے۔اور اُن کے دل سوز مشفقانہ کلام پر دھیان نہ کیا۔ضرور وہ کسی نہ کسی تباہی میں گرفتار ہوئے۔اور جھوٹے نبی کا نشان یہ دیا گیا ہے کہ وہ قتل کیا جاویگا۔اور جو کوئی اس نبی کی بات نہ مانے گا سزا پائیگا۔اب کفار عرب اس سچے رؤف و رحیم ہادی کو جھٹلا چکے ہیں۔طرح طرح کی اذیتیں۔دل کو کپکپا دینے والے آزار دے چکے ہیں کیونکہ وہ نبی صادق و مصدوق ہے۔اور وہ نبی وہ ہے جسکی نسبت موسی و عیسی بڑے فخر سے بشارت دیتے چلے آئے ہیں۔اب خدائی غضب اُمنڈ آیا۔لے جب تک تو اسے رسول ان میں سے اللہ انپر عذاب نہ لا ویگا۔سے تو کہرے (اے محمد) تمہارے واسطے ایک سال کی میعاد ہے کہ اس سے ایک ساعت ادھر اُدھر نہ کر سکو گے سے یوم۔دن۔الہامی کتابوں میں نبوت کا ایک دن یعنی سال بھی مستعمل ہوتا ہے لغات عرب اسکے شاہد ہیں۔اور عیسائی علماء اسکے منظر ہیں۔دیکھو اندرونہ بلبل عبد الله آتشم صفحه ۱۶۹ و ۱۳۳ ۶۹۰ ۱۳۳۰ - ۵۲ یقینا یہ لوگ (اہل مکہ تجھے (محمد) اس زمین (مکہ) سے نکالڈا لنے والے ہیں جب تو تیرے بعد یہ لوگ بھی تھوڑی ہی دیر رہیں گے۔۵۵ استثناء باب ۱۸-۲۰