فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 322 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 322

۳۲۲ یوحنا نے فارقلیط کی نسبت بشارت کو لکھا ہے۔اور لوقا نے اس نزول روح کا بیان کیا ہو جس کا تذکرہ اعمال میں موعد الاب کر کے ہی۔غرض جو روح سواریوں پر اتری۔وہ اور ہے۔اور یہ روح الحمق جس کا اشارہ قُل نَزلَ رُوحُ الْقُدُسِ میں ہو اور ہے۔اور یہ بھی ہے کہ یروشلم میں رہنا۔اس جگہ کی شریعت کی پابندی اور اسے قبلہ سمجھنا آپ کے تشریف لانے تک یہود اور نصاری کو ضرور تھا۔یہ مشکلم میں رہتے اور اُسی کی محبت کرتے جب بیت ایل منہ ہی قرار پایا تو نگو ضرور ہوا یہ اسمیں رہیں اور وہ آئینڈ ہے۔اثبات نبوة محمد رسول الله صلى الله علي دلم پیشینگوئیوس ہر ایک عاقل اور تاریخی مذاہب میں سے کسی ایک مذہب کا معتقد اس بات کو یقین جانتاہو کہ آیندہ زمانے کی نسبت پیشگوئی کرنا کبھی قانون قدرت کی عادت و آداب اور اُسکے اسباب پر نظر کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔کبھی قرآئن موجودہ کے لحاظ سے کبھی اپنے چیلوں اور مریدوں اور نوکروں کے ڈرانے یا خوش کرنے کے لئے۔اور کبھی سچے الہام سے۔مثلا میکی موسم سرما میں یہ پیشینگوئی کروں (اگرا سے پیشینگوئی کر سکیں کہ گرمی کے موسم میں یہاں ایسی سردی نہ ہوگی۔تو ظاہر ہے کہ یہ پیشینگوئی حالات طبعی اور قانون قدرت کے با ترتیب غیر متبدل واقعات پر نظر کرنے سے ہوگی یا گرم مکان میں جسے عارضی حرارت پہنچائی گئی ہو۔بیٹھا ہوا باہر کی برف اور سرما کو تصور کر کے کہدوں کہ اس مکان کے باہر کھلے میدان میں بیشک سردی ہوگی۔تو یقیناً میرا ایسا کہنا صاف قرائن موجودہ کی امداد سے ہو گا۔یا اگر میں اپنے مریدوں اور خادموں کو کہوں کہ تم کو میری اطاعت اور خدمت کے عوض میں ضرور جنت عطا ہو گی۔اور تقصیر خدمت و عصیان کی صورت میں تم وبال