فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 308 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 308

۳۰۸ ان اویہ کی آیتوں سے تین پیغمبروں کا ذکر ثابت ہوتا ہے۔ایک حضرت الیاس کا اور دو سے حضرت عیسی کا۔تیسرے اس پیغمبر کا جو علاوہ حضرت عیسی کے ہونے والا تھا۔یہودی یقین کرتے تھے۔پیغمبر الیاس کو جنکو مسلمان حصے پر کہتے ہیں کہ وہ مرے نہیں۔بلکہ صرف انسان کی نظروں سے غائب ہو گئے ہیں۔اور یہودیوں کو حضرت علیہ ہی کی نسبت یہ یقین تھا۔اور اب بھی ہے کہ وہ کسی نہ کسی دن آ رہینگے۔لیکن ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ علاوہ حضرت مسیح کے ایک اور پیغمبر کے آنے کی بھی امید رکھتے تھے۔اور وہ پیغمبر ایسا مشہور تھا۔کہ بجائے نام کے صرف اشارہ ہی اُسکے بتانے کو کافی تھا۔جیسے کہ ہم مسلمان بھی پیغمبر کے نام کی جگہ صرف آنحضرت اشارے میں لکھتے ہیں اور بولتے ہیں۔اور یہ مشہور پیغمبر کون ہوسکتا ہے بجز اُسکے کہ جس کے سبب خدائے تعالیٰ نے ابراہیم او اسمعیل کو برکت دی اور جسکی نسبت خدائے تعالیٰ نے موسی سے کہا کہ تیرے بھائیوں میں تجھ سا پیغمبر پیدا کرونگا۔اور جسکی نسبت حضرت سلیمان نے کہا۔میرا محبوب سرخ و سفید سب میں تعریف کیا گیا صحت تلا ہو۔یہی میرا مطلوب اور یہی میرا محبوب ہے۔اور مسکی نسبت حضرت عیسی نے فرمایا۔میرا جانا ضرور ہے۔تاکہ فارقلیط آئے۔اب میں نہایت مضبوطی سے کہتا ہوں۔کہ یہ نامی اور مشہور پیغمبر حضرت محمد ہیں۔واللہ حضرت محمدؐ ہیں۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسلم - منقول از خطبات احمدید بشارت يوحنا باب ۱۲ - ۴۷ اگر کوئی شخص میری باتیں سنے اور ایمان لائے تو میں اسپرحکم نہیں کرتا کیونکہ میں اس لئے نہیں آیا، کہ جہان پر حکم کروں۔بلکہ اس لئے کہ جہان کو بچاؤں۔وہ جو مجھے رو کر دیتا اور میری باتوں کو قبول نہیں کرتا۔اسکے لئے ایک حکم کرنے والا ہے۔الے شای اللہ پر یشلم کو ٹیٹس کے بھیس میں اگر خوب سجایا۔