فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 304
۳۰۴ اِس پر ابو طالب نے متاثر ہو کر یہ اشعار پڑھے ؎ اللهِ لَن يَصِلُوا اِلَيْكَ يَجعِهِمْ حَتَّى أَوَشَدَ فِي التَّرَابِ دَفِينا فَاصْدَعْ بِأَمْرِكَ مَا عَلَيْكَ غَضَاهَتُ والشروقر بذاك مِنْكَ عيونا ودعوتني وزَعَمْتُ أنك نامين ولقد صدقت وكنت ثم أمينا وَعَرَضْتَ دِين الاحالة أنَّهُ مِنْ خَيْرِ أَدْيَانِ الْبَرِيَّةِ دِينًا لَوْلا المُلَامَةُ أَو حِذَارِى سُبَة لَوَجَدْتَنِي سَمْعًا برَكَ مُبينا ابو طالب کے وہ فقرات جو اس نے موت کے وقت خطبہ طویل کے بعد کہے۔قابل غورہ ہیں۔ونَ أَوْصِيكُهُ بمُحَمَّدٍ خَيْرًا فَإِنَّهُ الآمنين في قريش والصديق في العرب قَدْ جَاءَ نَا بِأَمْرِقَبِلَهُ الْجِنَانُ وَأَنْكَرَهُ اللَّسَانُ مَخَافَةَ الشَنَان مواہب لدنيه و زرقانی شرح مواہب جلدا - صفحہ ۳۵۶ - غرض ایک مشہور اور دستور عام کی نظیر یں کہاں تک لکھوں مضمون طویل ہوا۔جاتا ہے۔اب آپ کے علم کی چند باتیں لکھتا ہوں۔(1) ابوسفیان نے کسی زمانے میں اعدسے عدو تھا۔اور جس کا حال ہماری اس کتاب ہ میں کئی جگہ آویگا۔ایک شخص کو مقرر کیا کہ وہ خطبہ خفیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر ڈالے۔آپ بنی عبد الاشہل کی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔اور وہ بغل میں خنجر دبائے ے اللہ کی قسم یہ لوگ جب تک میں نہ مر جاؤں تیرے پاس نہ پھٹکیں گے تو اپنے ام کو ظاہر کردے تھے کوئی ذلت نہ ہو گی۔خوش ہو اور اپنا جی ٹھنڈا رکھ : بی شک تو نے ایسا دین پیش کیا۔جو مخلوقات کے دینوں سے افضل ہے۔اگر علامت قوم اور بدنامی کا ڈر مجھے نہ ہوتا۔تو مجھے اس دین کا ماننے اور ظاہر کرنے والا ضرور پاتا ۱۲۔ے میں تم کو محمد سے اچھا سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔کیونکہ وہ قریش میں امین ہے اور عرب میں صدیق ہے۔وہ ایسا اور لایا جس کو دل نے تو مانا پر زبان نے بدنامی کے ڈر سے اس کا انکار کیا ۱۴ -