فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 216 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 216

٢١٩ سو پو پھر سے کو ایلیا نے زندہ کیا۔سلاطین ۱۷ باب ۲۰- الیسع نے زندہ کیا۔سلاطین آیا۔تو اب کیا ہم کو جائز ہے ہم کہ دیں انجیل میں مسیح کا مردہ نہ ندہ کرنے کا قصہ غلط ہے۔کیونکہ مسیح سے پہلے ایلیا اور الیسع نے مردے کو زندہ کیا ہو۔انجیل نویسوں نے غلطی سے ایلیا اور الیسع کا قصہ مسیح کے ساتھ مادیا ہے۔اگر کہو جنکو ایلیا اور الیسع نے زندہ کیا وہ اور تھے اور سی انے جن کو زندہ کیا وہ اور لو یہاں بھی ہم کہتے ہیں۔جن کو جدعون نے آزمایا وہ اور تھے اور میں لشکر کو ساول نے آزمایادہ اور تھا۔جس شہر یہ جد مون نے لشکریوں کو آزمایا دیا ور تھی اور نجس نہر پر سادل نے آزمایا وہ اور تھی۔ہاں اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ یہاں ساول اور جالوت فلسطی کی لڑائی ہوئی وہاں نہر نہ تھی تو البتہ قرآن پر شبہ ہو سکتا ہے۔مگر وہاں ندی موجود تھی۔کیونکہ فلسطینی سوکوہ غریقاہ۔افس۔ولیم میں جمع تھے اور بنی اسرائیل وادی ایلاہ میں اور دونوں کے درمیان دریائے شورق واقع تھا۔فلسطینی دریا کے جنوبی اوربنی اسرائیل دریا کے شمالی کنارے پر تھے بنی اسرائیل نے دریا سے عبور کر کے حملہ کیا اور ہمیشہ سپہ سالار ایسے طریقوں سر انتخاب کیا کرتے ہیں۔اظہار عیسوی میں لکھا ہو قاضیوں کی کتاب دوسرے سموئیل سو پہلے تصنیف ہوئی نہ پہلے سموئیل سے پہلے۔دیکھو اظہار عیسوی صفحہ ۱۷ ۱۸ پس کیا تعجب ہے طالوت کا قصہ جدعون کے قصے سے کتاب قاضی میں گڑ بڑ ہو گیا کتاب سموئیل کے واقعات نہ تو ترتیب سے میں اور نہ یہ بات ہو کہ طالوت کا کوئی وقد سموئیل سے فروگذاشت نہیں ہوا۔کیونکہ موٹیل ۱۶ باب ۲۲۹۲۱ میں ہر طالوت نے داؤد کو اُنکے باپ سے بلا کر سلحہ برداروں میں رکھا اور داؤد سے واقف تھا اور ۱۷ باب ۳۱ ۳۹ میں ہو۔داؤد نے جالوت سے لڑنے کا ارادہ کیا تو طالوت نے اپنا ذرہ بکتر دیامگر ایموئیل ، ا باب ۵۵ میں ہم جب داؤ د لڑنے کو بڑھا۔تو ساول نے لشکر کے سردار سے پوچھا۔یہ جوان کیس کا بیٹا ہو۔جب داؤد سر کاٹ کر لایا۔تو ساول نے پوچھا یہ لڑاکا کس کا بیٹا ہے۔I