فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 189
۱۸۹ فرشتے نے بنی اسرائیل کے گھروں کو امن دیا۔اور فرعون کے پوٹھے مارڈالے۔جواب۔قبلہ کے معنی متقابلہ کے بھی ہیں۔یعنی آمنے سامنے بنی اسرائیل کو حکم تھا کہ اپنے اپنے گھر ایک دوسرے کے سامنے بنا دیں۔اور صلحت اس میں یہ تھی کہ میدہ رات کو نکل جانے کے لئے اچھا موقع ملے۔دیکھو گنتی۔اعتراض - سورة ق - رکوع ۳ - وَيَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاتِ وَتَقُولُ هل من مزيد - ترجمہ اور جہد ہم کہینگے دوزخ کو کیا تو بھری ہوتو وہ آہنگی کیا کچھ یہ ہے۔اور دیکھو ترجمہ مشارق الانوار لا تزال جَهَنَّمُ تَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّى يَضْع فيها رب العزة قدَمَا نَتَقُولُ قَط فقط ترجمہ کہ ہمیشہ دوزخ میں آیا کچھ بیچ سکے اللہ تعالی قدم اپنا۔پس دوزخ کہیگی۔بس بس۔چار باتیں جواب طلب ہیں۔ا کوئی معقول سبب بتا دیں جسکے باعث خدا کو دوزخ میں پاؤں ڈالنا ضروری ہو۔۲- کسی آیت کی سند سے بتا دیں کہ خدا کے پاؤں کو دوزخ سے کبھی رہائی ملیگی یا ہمیشہ اُسی میں رہیگا۔-۳- کسی سند سے بتا دیں کہ خدا کے پاؤں کے دوزخ میں جانے سے اُسکی جلانے والی تاثیر میں تبدیلی ہوگی یا نہیں۔اگر تبدیلی ہوئی تو دوزخی مذاب سے چھوٹے ورنہ خدا کا پاؤں بھی جیلا۔۴ - خدا جو بقول قرآن عرش پر بیٹھا ہو۔وہیں سے بیٹھے بیٹھے دوزخ میں پاؤں لٹکا دیگا۔یا عرش سر نیچے اتر پڑیگا۔اور جب پاؤں دوزخ میں گیا روز منی بھی اُسے دیکھینگے یا نہیں۔جواب۔پادری صاحب نے اس اعتراض میں کمال قوت استنباطی کو خرچ کیا۔اور شاید انہیں اپنے اس استخراج پر بڑا ناز ہوگا۔صاحب اتنا ہی پوچھ لیا ہوتا کہ اس حدیث کا مطلب کیا ہے۔ہمیں سچ سچ کہتا ہوں کہ حدیث کا مطلب صاف اور درست ہو مگریہ ہان اور محاورہ معرب نہ جاننے کے سبب پادری صاحب اس بھول بھلیاں میں جا پڑے ہیں جو