فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 11 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 11

ال کہیں ہوئی۔میسی یہ بات ہے۔کیا کسی قوم نے اپنے الہوں کو جو حقیقت میں خدا نہیں بدل ڈالا معلوم ہوتا ہے کہ یہ میا کے زمانے تک یہودی تعلیم کا اثر عرب پر نہیں پڑا اور کچھ نہیں پڑا۔یادر کو انہبی کی ضرورت تھی یا نہ تھی۔جانتے ہو قیدار کون ہیں۔قیدار اسمعیل بن ابراہیم کا بیٹا ہو۔یہاں اسی کی قوم کی نسبت فرماتا ہو۔بتاؤ عرب کی ایسی بت پرست قوم کو کس نے خدا پرست بنایا۔کیا کسی مرگی زدہ مینوں نے سبحان اللہ کسطرح فطرت کا خالق فطرت کی طرف متوجہ کرتا ہے اور کہتا ہے۔قل انما أعظكُمْ بِوَاحِدَةٍ ، أَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنى وَفَرَادَى ثُمَّ تَتَفَكَّرُو مَا بِمَا حِبَكُمْ مِنْ جِنَّةِ سُوره سبا سیپاره ۲۲ رکوع ۱۲ جنگل اور بیابان سے بلکہ بدوں سامان اسباب اپنے دیکھتے دیکھتے یا شخص صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کو اپنا ہمخیال بناگیا۔ہزاروں ہزار مخلوق کو اپنے اوپر جان ومال سرفدا کر گیا۔نہ کسی نے تیں روپے پر پکڑھایا۔نہ کسی نے اُسے ملعون کہ کر انکار کیا۔سوچو۔متی ۲۶ باب ۱۷ و ۴ نے پادری صاحبان ! اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مرگی کے مبتلا اور دیوانے تھے اور پھر اتنی دنیا پر ایسا قابو پا گئے۔تو سچ سمجھو بڑا معجزہ کر دکھایا۔معجزے کے کیا معنی دوسے کو عاجز کر دینے والا۔اتنی دنیا کے رسوم و عادات کو بدل دینا۔اور عرب کی متفرق جماعت کو ایک اسلام کے رشتے میں منسلک کر دینا۔اور سب کو اُس کا مصدق بنا دینا ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔باذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاء فَالفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَاصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ اِخْوَانًا سُوع ال عمران - سیپاره - رکوع - لے تو یہ میں تو ایک ہی نصیحت کرتا ہوں تم کو کر اٹھ کھڑے ہو اللہ کے کام پر دو دو اور ایک ایک بھر دھیان کرو۔اس تمہارے صاحب (رفیق) کو کچھ سودا نہیں ہے یا کے اور یاد کرو احسن الہ کا اپنے اوپر یہ ھے تم آپسمیں دشمن پھر الفت دی تمہارے دل میں اب ہوگیا اسے فضل سے بھائی کا