فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 12
۱۲ والف بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ انْفَقْتَ مَا فِي الأَرْضِ جَمِيعًا ما الفت بَيْنَ قُلُوبِهِمْ والكِنَّ اللهَ الَفَ بَيْنَهُمُ - سوره انفال - سیپاره ۱۰ - رکوع ۳ - معجزے کے معنی کسی نے تخرق عادت کے لئے ہیں۔ناظر بن عیسائیو! کہیں عادت میں بینظیر دیکھتے ہو جو آنحضرت صلعم نے قائم کر کھائی۔ذرا ہادیوں کی تاریخ قدیم وجدی ٹول لی۔اگرنہ پاؤ تو سمجھو ایک ایسے شخص کے ہاتھ سے جسے تم لیوان مرگی زد کہتے ہو یہ کام انجازا و خرق عادت نہیں تو اور کیا ہے تمام مخالف اور جنگجو قومیں باوجود قومی اتفاق اور حمائت رو ساد امراء کے ایک طرف ہوں اور مختلف قوموں کے مختلف بلاد کے غریب و مساکین ایک طرف ہوں۔پھر اسی کی کامیابی ہو۔جسے تم کمال جنون سے مجنون کہتے ہو۔یہ مجزہ نہیں تو کیا ہے۔یکیں عنقریب معجزے اور خرق عادت کے لفظ پر بحث کرونگا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال عقل ثابت ہوگا۔تو پھر متصف کو غور کرنے کا موقع ملیگا۔و شخص بنی چالیس برس تک کامل سچائی راستی وفاداری۔ملک کی خیر خواہی پر زندگی بسر کی۔وہ اپنی آخری عمر میں ایک سراسر جھوٹے سلسلے کی تحریک کریگا۔وہ آخر عمر میں بے ایمانی کو اور صریح دعا کو اختیار کریگا۔حالانکہ اس کو اس مکاری میں بجز اسکے کچھ بھی ہاتھ نہ آیا، کہ کروڑوں آدمیوں کو صرف خدا کی محبت اور اسکی اطاعت اور اسکی فرمانبرداری میں نہ فانی خواہشوں میں اپنا ہم خیال بنا گیا۔سچے ہو۔اپنا مخیال بنا لینا بھی بڑی خوشی اور کامیابی ہے۔میں آپ کے مختصر سوانح عمری لکھتا ہوں۔آپ قریش کے خاندان جو تمام قبائل عرب میں مکرم او منظم ہو اور جسکی عظمہ کے سامنے تمام وحشی قو میں عرب کی ممکن نہ تھا کہ ملکے کی سرزمین میں کبھی کشت و خون کر سکیں۔بلکہ سگے کو امن کی جگہ اور حرم کہتے تھے، بنو ہاشم کے گھرانے عبد المطلب کے بیٹے عبداللہ کے گھر میں آئین کے ے اور ان کے دل میں الفت ڈالی۔اگر تو خرچ کرتا ہو سارے ملک میں ہے تمام نہ الفت دے سکتا اُنکے دل میں لیکن اللہ نے الفت وی اُنکے درمیان ۱۳