فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 19

۱۹ عقائد ونظریات شریعت کہتی ہے کہ جس شخص کے متعلق کوئی بُری بات تمہارے پاس بیان کی جائے تم ہمیشہ اس کے متعلق حُسنِ ظن رکھو اور بُری بات کہنے والے کو جھوٹا سمجھو کیونکہ اس نے دوسرے کی عزت پر حملہ کیا ہے۔اگر زید تمہارے پاس ایک شخص کی بُرائی بیان کرتا ہے اور تم زید کی بات سُن کر اس پر فوراً یقین کر لیتے ہو اور جس کے متعلق کوئی بات کہی گئی ہو اس کو مجرم سمجھنے لگ جاتے ہو تو تم بدظنی کا ارتکاب کرتے ہو اور اگر وہ عیب ایسا ہے جس کے لئے شریعت نے گواہی کا کوئی خاص طریق مقرر کیا ہوا ہے تو نہ صرف عیب لگانے والا شریعت کا مجرم بنتا ہے بلکہ جو اس کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے اور اس کی تائید کرتا ہے وہ بھی مجرم ہے ایسے مواقع پر شریعت کی یہی ہدایت ہے کہ جس کا جرم بیان کیا جاتا ہے اسے یری سمجھو اور جوکسی کا عیب بیان کرتا ہے اس کا جرم چونکہ ثابت ہے اسے کبھی سچا قرار نہ دو۔( تفسیر کبیر۔جلد ششم سوره نور صفحه۲۷۲ ۲۷۳) بوقت ضرورت کسی شخص کا عیب بیان کرنا گناہ نھیں ہر موقع پر کسی کا عیب بیان کرنا بر انہیں ہوتا۔بلکہ بعض جگہ ضروری ہوتا ہے۔اس وقت اس کو غیبت نہیں کہا جائے گا۔غیبت ایک اصطلاح ہے اور یہ اسی وقت استعمال کی جائے گی جبکہ خواہ مخواہ کسی کے عیب بیان کئے جائیں۔لیکن اگر کوئی شخص کسی کا عیب بیان کرنے پر مجبور ہے یا اوروں کو اس کے بیان کرنے سے فائدہ پہنچتا ہے تو اس کا بیان کرنا نیکی اور ثواب کا کام ہوگا۔مثلاً ایک ایسا شخص ہے جو جماعت یا قوم کے خلاف کوئی سازش کرتا ہے یا بُری باتیں پھیلاتا ہے تو اس کے متعلق اطلاع دینا اور اس کی شرارتوں سے ذمہ دار لوگوں کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔تو کسی بات کے بیان کرنے اور بتانے میں یہ دیکھنا چاہئے کہ اس کے بیان کرنے میں نفع ہے یا نقصان۔اگر اس سے کوئی اچھا نتیجہ نکلتا ہوں کسی بُرائی کا سد باب ہوتا ہو، کسی کو فائدہ پہنچتا ہو تو اس کا نہ بیان کرنا گناہ ہو گا جس طرح غیبت کرنا گناہ ہے۔الفضل ۴ رنومبر ۱۹۲۰ء۔جلد ۶ نمبر ۳۴)