فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 20

عقائد ونظریات توبه سے اُخروی سزا معاف هوتى هے دنیاوی سزانهيں بعض فقہاء کہتے ہیں کہ تو بہ کرنے پر اللہ تعالیٰ ان کو فاسقوں میں سے نکال دے گا۔اور بعض کہتے ہیں کہ ساری سزا ہی معاف کر دی جائے گی۔اور بعض کہتے ہیں صرف شہادت قبول نہ کرنے کی اور فاسق ہو جانے کی کہ جو سز تھی اس سے انہیں بچالیا جائے گا۔یعنی اگر قاضی فیصلہ کر دے کہ فلاں شخص اپنی غلطی پر بچے طور پر نادم ہے اور آئندہ کے لئے اس نے اپنی اصلاح کرلی ہے تو اجازت ہے کہ اس کی شہادت قبول کر لی جائے۔اور خدا تعالیٰ بھی اسے فاسق ہونے سے بچالے گا۔میرے نزدیک یہی بات درست ہے کہ بدنی سزا سے تو اسے نہیں بچایا جائے گا البتہ دوسری سزائیں اس کی اصلاح ثابت ہونے پر معاف ہو سکتی ہیں۔اس آیت ( إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَالِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ( النور : ٦) سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض گناہوں کی سزادی جانی ضروری ہوتی ہے۔کیونکہ تمدن کے قیام کے لئے سزا بھی ایک ضروری چیز ہے لیکن اگر بندہ اس سزا کو برداشت کر لے اور اپنے فعل پر نادم ہو تو اللہ تعالیٰ اس مقررہ سزا سے جو قیامت کے دن ملنے والی ہوتی ہے اسے محفوظ کر دیتا ہے اور اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے لیکن اس دنیا کی سزا کو معاف نہیں کرتا کیونکہ وہ بندوں کے اختیار میں ہے۔(تفسیر کبیر۔جلد ششم، سوره نور صفحه ۲۶۶) کسی شخص کو مرتدیایھودی کہنا جائز نھیں سوال :۔کیا غیر مبایعین کو یہودی یا مرتد کے لفظ سے یاد کرنا درست ہے؟ جواب :۔گالی دینا خواہ کسی کو گالی دی جائے منع ہے۔مرتد اگر کافر کے معنے میں استعمال نہ کیا جائے تو غیر مبایعین کے لئے یہ لفظ استعمال ہو سکتا ہے مگر ان الفاظ سے حتی الوسع مؤمن کو اجتناب کرنا