فرموداتِ مصلح موعود — Page 366
ذبیحہ اہل کتاب شامل ہے یا نہیں۔جہاں تک لغت کا سوال ہے ھم یعنی چربی کو لخم سے الگ قسم کا خیال کیا جاتا ہے۔لیکن مفسرین کہتے ہیں کہ ٹم کے نام میں ھم بھی شامل ہے۔گومفسرین کی دلیل ذوتی ہے اور لغت والوں کی بات اس مسئلہ میں زیادہ قابل اعتبار ہے۔مگر اس کے باوجود میرے نزدیک سؤر کی مھم یعنی چربی جائز نہیں۔اور اس کی دلیل میرے پاس یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مردہ جانور کی چربی حرام ہے۔اور سؤر کی حرمت اور مردہ کی حرمت ایک ہی آیت میں اور ایک ہی الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔پس دونوں کا حکم ایک قسم کا سمجھا جائے گا۔لیکن سؤر کی جلد کا استعمال جائز ہوگا کیونکہ وہ کھائی نہیں جاتی۔احادیث میں ایک اور واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ام سلمی رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مرگئی۔چند آدمی اس کو اٹھا کر باہر لئے جا رہے تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم اس کا چمڑا کیوں نہیں اتار لیتے ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ تو مینہ ہے۔آپ نے فرمایا کیا تم نے اسے کھانا ہے۔پس معلوم ہوا کہ جس کا گوشت حرام ہو اس کے چمڑے کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔ہاں سور کے بالوں کے بنے ہوئے بُرشوں کا مکروہ کہا جائے گا۔کیونکہ ان کو منہ میں ڈالا جاتا ہے جو کھانے کا دروازہ ہے۔اس آیت کے متعلق ایک بہت بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس میں چار چیزوں کی حرمت بیان کی گئی ہے۔کیا یہی چار چیزیں حرام ہیں اور ان کے سوا اور کوئی چیز حرام نہیں۔بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں پر جو حصر پایا جاتا ہے یہ حصر اضافی ہے۔یعنی کفار کے حرام کو مدنظر رکھ کر اضافی طور پر ان چیزوں کو حرام کیا گیا ہے۔(تفسیر کبیر جلد چہارم۔سورہ انحل - صفحہ ۲۶۰) يايها الرسل كلوا من الطيبت (المؤمنون :۵۲) حقیقت یہ ہے کہ انسان کی خوراک کا اس کے اخلاق پر نہایت گہرا اثر پڑتا ہے اور جس قسم کے اثرات کسی غذا میں پائے جائیں ویسے ہی جسمانی یا اخلاقی تغیرات پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔