فرموداتِ مصلح موعود — Page 310
۳۱۰ معاملات ٹھیک ہے کہ سود جائز نہیں لیکن مضطر کے لئے یہ فتویٰ درست نہیں ہے اور ساتھ یہ مثال دی ہے کہ ایک شخص کو شادی کرنے کے لئے روپیہ کی سخت ضرورت ہے کہیں سے اسے مل نہیں سکتے۔اگر وہ سودی روپیہ لے کر شادی پر لگالے تو اس کے لئے جائز ہے۔میں نے پہلے بھی اسی قسم کے واقعات سنے تھے چنانچہ جو لوگ اہل قرآن کہلاتے ہیں انہوں نے اسی قسم کے فتوے دیئے ہیں۔لیکن اس قسم کے تمام فتوے قرآن کریم کے احکام کو نہ سمجھنے کی وجہ سے دیئے گئے ہیں۔الفضل ا ا ر اپریل ۱۹۱۶ء۔جلد ۳ نمبر ۱۰۵ صفحہ ۱۰۔خطبہ جمعہ فرموده ۷ ا پریل ۱۹۱۶ ملخصا ) قمار بازی لغو چیز ھے اس سے بچنا چاھئے آجکل قمار بازی یورپ اور امریکہ کے لوگوں کا نہ صرف محبوب مشغلہ ہے بلکہ ان کے تمدن کا ایک جز ولا ینفک ہو گیا ہے۔زندگی کے ہر شعبہ میں جوئے کا کسی نہ کسی صورت میں دخل ہے۔معمولی طریق کا جوڑا تو مجالس طعام کے بعد ان کا ایک معمول ہے لیکن اس کے علاوہ لاٹریوں کی وہ کثرت ہے کہ یوں کہنا چاہئے کہ تجارت کا کام بھی ایک چوتھائی حصہ جوئے کی نذر ہورہا ہے۔ادنیٰ سے لے کر اعلیٰ تک سب لوگ جوا کھیلتے ہیں اور کبھی کبھی نہیں قریباً روزانہ اور جوئے کی کلمبیں شائد سب کلبوں سے زیادہ امیر ہیں۔اٹلی کا کلب ”مانٹی کارلو“ میں جو امراء کے جوئے کا مقام ہے۔بعض اوقات ایک ایک دن میں کروڑوں روپیہ بعض لوگوں کے ہاتھوں سے نکل کر بعض دوسرے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے۔غرض اس قدر جوئے کی کثرت ہے کہ یہ کہنا نا درست نہ ہوگا کہ تمدن جدید میں سے جوئے کو نکال کر اس قدر عظیم الشان خلاء پیدا ہو جاتا ہے کہ اسے کسی اور چیز سے پر نہیں کیا جاسکتا۔حالانکہ جوا ایسی خطرناک چیز ہے کہ اس کا عادی انسان محض آدھ گھنٹہ کے جوا کی خاطر اپنی ساری جائیداد برباد کر دیتا ہے اور اگر جیتتا ہے تو اور ہزاروں گھروں کی بربادی کا موجب بن کر۔پھر جوئے باز میں روپیہ کوٹھانے کی عادت لازمی طور پر پیدا ہو جاتی ہے۔شائد ہی کوئی جوئے باز ایسا ہوگا جو اپنے روپیہ کو سنبھال کر رکھتا ہو۔بالعموم سارے جوئے باز بے پرواہی سے اپنا مال لگا دیتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ