فرموداتِ مصلح موعود — Page 292
۲۹۲ حدود دیتا ہے یا اپنی طرف سے تو اسے مار دیتا ہے لیکن وہ چند دن بیمار رہ کر مرتا ہے۔اب مارنے والے کی نیت فوری طور پر اسے مارنا تھی۔یہ نہیں تھی کہ ایذا دیدے کر مارے۔گو یہ الگ بات ہے کہ وہ ایذا سہہ سہہ کر مرالیکن ایک اور شخص ہے وہ اپنے دشمن کو پکڑتا ہے اور پہلے اس کی ایک انگلی کاٹتا ہے پھر دوسری پھر تیسری پھر چوتھی۔اس طرح وہ ایک ایک کر کے دوسرے ہاتھ کی انگلیاں کا تا ہے۔پھر پاؤں کی انگلیاں کا تا ہے پھر ناک کاٹ دیتا ہے پھر آنکھیں نکال دیتا ہے اور اس طرح ایذا دیدے کر مارتا ہے۔ہماری شریعت ایسے موقعوں پر ایڈا کی الگ سزا دے گی اور قتل کی الگ دے گی۔اگر قاتل نے فوری طور پر قتل کیا ہے تو اسے بھی قتل کر دیا جائے گا۔اور اگر اس نے ایذا دے دے کر مارا ہے تو اسے بھی ایذا دے دے کر مارا جائے گا۔جیسے احادیث میں آتا ہے کہ کچھ لوگ بعض صحابہ کو پکڑ کر لے گئے اور لوہے کی گرم گرم سلاخیں انہوں نے ان کی آنکھوں میں پھیر میں اور پھر قتل کر دیا۔جب وہ پکڑے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں بھی اسی طرح مارو۔پہلے لوہے کی سلاخیں گرم کر کے ان کی آنکھوں میں ڈالو اور پھر قتل کر دو۔الفضل ۲۵ جولائی ۱۹۳۵ء۔جلد ۲۳ نمبر ۲۱ صفحہ ۷ ) نفاذ قانون قضاء کا کام ھے قانون کی پابندی اسلام ہمیں قانون کی پابندی کا حکم دیتا ہے اور ہمیں کسی امر کی صداقت کا خواہ کس قدر بھی یقین ہو وہ ہمیں اجازت نہیں دیتا کہ ہم اپنے یقین کی وجہ سے کسی کو خود ہی سزا دے دیں اور اگر ہم ایسا کریں تو اسلام ہمیں مجرم ٹھہراتا ہے اور قابل سزا گر دانتا ہے۔اس امر میں اسلام نے اس قدر سختی سے کام لیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سزادینے والے کو ویسا ہی مجرم قرار دیا ہے جیسا کہ بلاوجہ حملہ کرنے والے کو۔چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ اگر کوئی شادی شدہ زنا کرے تو اس کی سزار حجم ہے۔آپ نے فرمایا کہ ہاں۔