فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 4

عقائد ونظریات مقام حدیث سوال :۔قرآن مجید کے جن احکام کی خود خدا تعالیٰ نے تفصیل نہیں بتائی تو کیا یہ اس امر کی دلیل نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ نے حالات پر اس کی تفصیل چھوڑ دی ہے خواہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی جزئیات بتادی ہوں تو کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وضاحت محض وقتی سمجھی جائے گی نہ کہ دائگی مثلاً زکوۃ کا حکم خدا تعالیٰ نے دیا لیکن اس کی شرح نہیں بتائی رسول اللہ نے 212 فیصد شرح مقرر فرمائی۔تو کیوں نہ اس کو وقتی سمجھا جائے؟ جواب :۔سوال یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تفصیل تو بتادی مگر یہ نہ بتایا کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں وہ وقتی ہے اور پھر خدا تعالیٰ نے نعوذ باللہ یہ آیت قرآن کریم میں بلا وجہ نازل کر دی کہ قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ گویا کہا تو یہ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے میری رضا مل سکتی مگر حقیقت یہ تھی کہ محمد رسول اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ بتایا وہ وقتی تھا اور دائمی طور پر اس پر عمل ہو ہی نہیں سکتا تھا اس صورت میں تو اللہ تعالیٰ کو یہ کہنا چاہئے تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں نہیں بلکہ کسی اور کی اتباع میں تم میرے محبوب بن سکتے ہو۔آخر سوچنا چاہیے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریحات وقتی تھیں تو پھر اس آیت کے کیا معنی رہے؟ اسی طرح قرآن کریم کی اور بیسیوں آیات ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کو بنی نوع انسان کے لئے ضروری قرار دیتی ہیں اور اس کی اہمیت پر دلالت کرتی ہیں پھر یہ کس طرح جائز ہو سکتا ہے کہ ان احکام کو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں وقتی قرار دیں اور اسی طرح آپ کی دائگی انتباع سے جس پر قرآن کریم نے زور دیا ہے انکار کر دیں۔آخر اتنا بڑا مسئلہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام وقتی ہیں امت محمدیہ کے اربوں افراد کی زندگی پر اثر رکھنے والا تھا اور ضروری تھا کہ انہیں اس بارہ میں علم دیا جاتا تاکہ وہ غلط راستہ پر نہ چلتے مگر خدا تعالیٰ بھی اس بارہ میں خاموش رہا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی خاموش رہے اور صلحائے امت بھی خاموش رہے۔اور پھر