فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 229

۲۲۹ نکاح کیا جاسکتا ہے مگر عام طور پر برتھ کنٹرول کے حامی سب سے بڑی وجہ خشیۃ املاق ہی پیش کرتے ہیں۔الفضل ۶ جون ۱۹۳۳ء۔جلد ۲۰ نمبر ۴۵ صفحه ۷ ) لا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ (بنی اسرائیل) اولاد کی پیدائش کو صرف اس خطرہ سے روکنا منع ہے کہ اگر اولا دزیادہ ہو جائے گی تو پھر کھائے کی کہاں سے۔اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے اولا د کی پیدائش بند کر نا قتل اولاد کے حکم میں ہے اور قتل اولاد ہر حال میں منع ہے اور برا ہے۔تو معنے یہ ہوئے کہ اطلاق کی وجہ سے قتل اولا د یعنی اس کی پیدائش روکنا منع ہے۔البتہ بعض صورتوں میں جائز بھی ہو سکتی ہے مثلاً عورت بیمار ہو۔اس وقت جائز ہوگا کہ اولاد پیدا کرنا بند کر دے۔کیونکہ جس چیز کی وجہ سے قتل اولاد کوروکا گیا ہے وہ غیر محسوس ہے۔ایسی وجہ کی بناء پر اولاد کی پیدائش کو روکنا جائز ہے۔لیکن کسی محسوس اور مشاہد نقصان کی وجہ سے اولاد کی پیدائش کو روکنا منع نہیں۔علاوہ پیدائش میں روک ڈالنے کے جو بچہ بن چکا ہو بعض حالات میں اس کا مارنا بھی جائز ہوتا ہے۔مثلاً کسی حاملہ عورت کے متعلق زچگی کے وقت یہ شبہ ہو کہ اگر بچہ کو طبعی طور پر پیدا ہونے دیا گیا تو والدہ فوت ہو جائے گی۔اس صورت میں بچہ کو ضائع کر دینا جائز ہے کیونکہ بچہ کے متعلق نہیں کہہ سکتے کہ وہ مردہ پیدا ہوگا یا زندہ۔یا زندہ رہے گا یا نہیں۔مگر ماں سوسائٹی کا ایک مفید وجود ہے اس لئے وہی نقصان سے حقیقی نقصان کو زیادہ اہمیت دی جائے گی اور بچہ کو تلف کر دیا جائے گا۔( تفسیر کبیر جلد چہارم۔سورہ بنی اسرائیل۔صفحہ ۳۲۷) برتھ کنٹرول بوجه کمی آمد سوال :۔ایک آدمی کی تنخواہ بہت قلیل ہے اور آمدنی کا اور کوئی ذریعہ سوائے تنخواہ کے نہیں اور تنخواہ مثلاً پچاس یا ساٹھ روپے ہے اور ظاہر ہے کہ اس قدر قلیل تنخواہ میں آج کل کے زمانہ میں بمشکل دو تین حد چار آدمیوں کا گزارہ ہو سکتا ہے۔اب ایک خاندان میں دومیاں بیوی جوان اور تندرست ہیں اور ان کے سال بہ سال بچے ہو سکتے ہیں لیکن ظاہر ہے کہ اگر ان کے بچے زیادہ ہو جائیں گے تو ان کی