فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 215

۲۱۵ نکاح سوال :۔تاریخ شادی سے چند دن پہلے لڑکے یا لڑکی کی مایاں کرتے ہیں۔کیا یہ رسم جائز ہے؟ جواب :۔اگر لڑ کی کی مالش وغیرہ مراد ہے تو ہر ایک طریق جس سے اس کی شکل وصورت میں درستی ہو جائز ہے اور اگر بے وجہ کچھ کرنا بطور رسم مراد ہے تو درست نہیں۔الفضل ۵ را گست ۱۹۱۵ء۔جلد ۳ نمبر ۱۹ صفحه۲) سوال ہوا لبعض جوڑے نکاح پڑھوانا چاہتے ہیں اور روا جا کلمہ بھی پڑھ لیتے ہیں ایسے نکاح کا کیا حکم ہے؟ فرمایا:۔یہ سیاسی نکاح ہے۔حسب رواج ایجاب و قبول کرا دیا کریں۔شرعی نکاح یہ نہیں ہے۔باقی کوشش کریں کہ ایسے لوگ مسلمان ہو جاویں۔اگر مسلمان ان کو اپنے قبضہ میں نہ لیں گے تو عیسائی اور آریہ لے جائیں گے۔الفضل ۴ رمئی ۱۹۲۲ء جلد ۹ نمبر ۶ ۸ صفحه ۶) نکاح شغار۔وٹے سٹے کی شادی اسلام نے اس قسم کی شادی کو نا پسند کیا ہے کہ ایک شخص اپنی لڑکی دوسرے شخص کے لڑکے کو اس شرط پر دے کہ اس کے بدلہ میں وہ بھی اپنی لڑکی اس کے لڑکے کو دے۔لیکن جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے اگر طرفین کے فیصلے الگ الگ اوقات میں ہوئے ہوں اور ایک دوسرے کولڑ کی دینے کی شرط پر نہ ہوئے ہوں تو کوئی حرج نہیں۔( خطبات محمود جلد۳، صفحه ۲۸) ملک کا رواج ہے کہ لڑکی تب دیتے ہیں کہ جب کوئی ان کے لڑکے یا رشتہ دار کا بھی بندوبست کرے۔ایسا باپ جولڑکی کے فوائد کو نظر انداز کر دیتا ہے اور اپنے فوائد کو مقدم کرتا ہے وہ سخت بُرا کام کرتا ہے۔اس قسم کے رشتوں کو بقا کہتے ہیں اور یہ شریعت میں ناجائز ہے۔یہ جائز ہے کہ ایک جگہ