فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 209

۲۰۹ نکاح کی نمائش کو جو دھو کہ کا موجب ہو ہرگز جائز نہیں رکھتا۔پس جولوگ صرف دوسروں کو دکھانے کے لئے بڑے بڑے مہر باندھتے ہیں اور ادا نہیں کرتے وہ گنہگار ہیں۔اور جو اپنی حیثیت سے کم باندھتے ہیں وہ بھی گنہ گار ہیں۔صحابہ کے طرز عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پہلے ہی ادا کر دیتے تھے۔پس ایسا ہی کرنا چاہئے۔ہاں اگر کوئی ایک دفعہ سارا نہ ادا کر سکے تو کچھ مدت میں ادا کر دے۔لیکن ادا ضرور کرے۔متجل اور غیر منتقل کے الفاظ بعد کی ایجاد ہیں۔شریعت اسلام سے ان کو ئی تعلق نہیں ہے۔پس جہاں تک ہو سکے پہلے ادا کرنا چاہئے۔ورنہ آہستہ آہستہ۔یہ ایک قرضہ ہے جو عورت کی طرف سے مرد پر ہے۔اس کا ادا کرنا بہت ضروری ہے۔خطبات محمود جلد ۳ ( خطبات نکاح ) صفحه ۳۰،۲۹) مھر کی ادئیگی سے قبل مھر کی معافی عورت کو مہر ادا کئے جانے سے پہلے معافی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔وہ مال اس کا حق ہے اس کو پہلے وہ مال ملنا چاہئے۔پھر اگر وہ چاہے تو واپس دے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہی فتویٰ ہے۔آپ نے حکیم فضل دین صاحب مرحوم کے بیان کرنے پر کہ ان کی بیویوں نے مہر معاف کر دیا ہے۔فرمایا کہ پہلے ان کو مہر دے دو۔پھر وہ واپس دے دیں تو سمجھو کہ معاف کر دیا ہے۔جب انہوں نے روپیہ دیا تو بیویوں نے لے لیا اور کہا کہ اب تو ہم معاف نہیں کرتیں۔بعض فقہاء کا قول ہے کہ مہر دے کر فوراً بھی واپس ہو جائے تو جائز نہیں کچھ مدت تک عورت کے پاس رہے۔تب واپس کرے تو جائز سمجھا جائے گا۔(فائل فیصلہ جات نمبر ۲ - صفحه ۱۱،۱۲۔دار القضاء، ربوہ) مهر عورتوں کے حقوق شادی کے ساتھ ہی شریعت اسلام نے عورت کے لئے علیحدہ جائیداد کا انتظام کیا ہے اور اس