فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 208

۲۰۸ نکاح میں تو لاکھوں تک بھی مہر باندھے جاتے ہیں۔مگر وہ مہر صرف باندھے ہی جاتے ہیں۔ان کے ادا کرنے کی کوئی نیت نہیں ہوتی۔اس وقت جس نوجوان کا نکاح ہے ان کے والد پیرا کبر علی صاحب کا نکاح بھی میں نے ہی پڑھایا تھا۔اس میں مہر دس ہزار روپیہ تھا۔میں جب نکاح پڑھنے لگا تو میں نے پیر صاحب سے کہا کہ اگر یہ مہر دینے کی نیت ہے تو اتنا مہر باندھیں ورنہ کم کر دیں۔اس پر وہ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا حضور اب میں نیت کرتا ہوں کہ یہ مہر ضرور ادا کر دوں گا۔شائد خدا نے ان کی اس وقت کی نیت اور نیک ارادہ کرنے کی وجہ سے بعد میں ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ انہوں نے دس ہزار روپیہ مہر ادا کر دیا۔مگر لوگ تو ایسی حالت میں نکاح باندھتے ہیں کہ وہ خود کنگال ہوتے ہیں اور گھر میں کھانے تک کو کچھ نہیں ہوتا۔یہاں تک کہ نکاح کے دو جوڑے بھی بنٹے سے قرض لے کر لاتے ہیں۔مگر مہر دیکھو تو کیا ہوگا تین گاؤں ، ایک ہاتھی ،اتنے گھوڑے اور اتنے روپے وغیرہ۔در حقیقت عورت کا مہر اس لئے رکھا گیا ہے کہ بعض ضروریات تو خاوند پوری کر دیتا ہے لیکن بعض ان سے بھی زائد ضرورتیں ہوتی ہیں جن کو عورت اپنے خاوند پر ظاہر نہیں کرسکتی۔پس وہ اپنے اس حق سے ایسی ضروریات کو پورا کر سکتی ہے۔اس لئے اسلام نے مہر کے ذریعہ عورت کا حق مقر ر کیا ہے اور وہ خاوند کی حیثیت کے مطابق رکھا ہے مگر لوگ اتنا مہر باندھتے ہیں کہ بعض اوقات خاوند کی ساری کی ساری جائیداد دے کر بھی وہ مہر پورا نہیں ہوتا۔اور اس طرح مقدمات ہوتے ہیں اور اب تو عدالتیں ایسے دعووں میں نصف مہر عورت کو دلا دیتی ہے اور بعض مجسٹریٹ اتنے بڑے مہروں کو ظالمانہ فعل کہہ دیتے ہیں اور بعض دفعہ مرد کی جائیداد سے دلا بھی دیتے ہیں۔خطبات محمود جلد۳، صفحه ۵۰۲٬۵۰۱) مهرحیثیت سے کم باندھنے والے گنهگارهیں ہر مرد کے ذمہ عورت کا قرض ہے جس کا ادا کرنا ضروری ہے کسی صاحب نے ایک سوال پوچھا ہے کہ عورتوں کا جو مہر باندھا جاتا ہے وہ صرف دکھانے کے لئے ہی ہوتا ہے یا اس کا ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔وہ یادرکھیں کہ مہر دینے کے لئے ہوتا ہے۔اسلام اس قسم