فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 167

۱۶۷ روزه ہو جاتے ہیں۔کئی ایک کی صحت خراب ہو جاتی ہے۔پس اس کا کیا فائدہ ہے کہ ایک بار روزہ رکھ لیا اور پھر ہمیشہ کے لئے محروم ہو گئے۔الفضل ۳۱ - ۱۹۳۰ء۔نمبر ۸۸ - جلد ۱۸) بیماروں کے لئے روزہ معاف ہے۔یا عورت دودھ پلاتی ہو اور روزہ سے اس کے دودھ کو نقصان ہوتا ہو تو شریعت نے اس کے لئے آسانی رکھی ہے۔الفضل ۲۸ / جنوری ۱۹۱۴ء۔نمبر ۳۳ صفحه۱۱) بعض بیماریوں میں روزہ رکھا جاسکتاہے بعض بیماریاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن میں انسان سارے کام کر لیتا ہے مثلاً پرانی بیماریاں ہیں ان میں انسان سب کام کرتا رہتا ہے۔ایسا بیمار، بیمار نہیں سمجھا جاتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک دفعہ یہ فتویٰ پوچھا گیا کہ کیا اس ملازم کا سفر سفر شمار کیا جائے گا جو ملا زم ہونے کی وجہ سے سفر کرتا ہے۔آپ نے فرمایا:۔اس کا سفر سفر نہیں گنا جا سکتا۔اس کا سفر تو اس کی ملازمت کا حصہ ہے۔اسی طرح بعض ایسی بیماریاں ہوتی ہیں جن میں انسان سارے کام کرتارہتا ہے۔فوجیوں میں بھی ایسے ہوتے ہیں جو ان بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں مگر وہ سارے کام کرتے رہتے ہیں۔چند دن پیچش ہو جاتی ہے لیکن اس کی وجہ سے وہ ہمیشہ کے لئے کام کرنا چھوڑ نہیں دیتے۔پس اگر دوسرے کاموں کے لئے وقت نکل آتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ ایسا مریض روزے نہ رکھ سکے اس قسم کے بہانے محض اس وجہ سے ہوتے ہیں کہ ایسے لوگ دراصل روزہ رکھنے کے خلاف ہوتے ہیں۔بے شک یہ قرآنی حکم ہے کہ سفر کی حالت میں اور اسی طرح بیماری کی حالت میں روزے نہیں رکھنے چاہئیں اور ہم اس پر زور دیتے ہیں تا قرآنی حکم کی ہتک نہ ہومگر اس بہانہ سے فائدہ اُٹھا کر جو لوگ روزہ رکھ سکتے ہیں اور پھر وہ روزہ نہیں رکھتے یا ان سے کچھ روزے رہ گئے ہوں اور وہ کوشش کرتے تو انہیں پورا کر سکتے تھے لیکن وہ ان کو پورا کرنے کی کوشش نہیں کرتے تو وہ ایسے ہی گنہگار ہیں