فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 145

۱۴۵ زكوة زکوة نہ دینے والا یقیناً چور هے اگر کوئی شخص زکوۃ نہیں دیتا تو وہ یقینا چور ہے۔خواہ وہ یہ کہے کہ میں نے رات اور دن محنت کر کے کپڑے کی تجارت سے روپیہ کمایا ہے، خواہ وہ یہ کہے کہ میں نے رات اور دن محنت کر کے لوہے کے کارخانے سے روپیہ کمایا ہے، خواہ وہ یہ کہے کہ میں نے رات اور دن محنت کر کے مٹی کے تیل کی تجارت سے یہ روپیہ کمایا ہے، خواہ کسی چیز کی تجارت سے اُس نے روپیہ کمایا ہو اس میں ساری دنیا کا حصہ ہے اور اس کا فرض ہے کہ وہ اُس حصہ کو ادا کرے۔اور اگر وہ بغیر اس ٹیکس کو ادا کرنے کے رو پید اپنے گھر میں لے جاتا ہے تو اسلام اُسے قطعاً مومن کہنے کے لئے نہیں۔ہاں ایک بات یاد رکھنی چاہئے اور وہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں چونکہ ٹیکس دوہرا ہو گیا ہے یعنی گورنمنٹ بھی ٹیکس لیتی ہے اور اسلام بھی ایک ٹیکس لیتا ہے۔اس لیے جس چیز پر گورنمنٹ کی طرف سے ٹیکس عائد ہوتا ہے۔اگر اس کے ٹیکس کی رقم زکوۃ کے برابر یا زکوۃ سے زیادہ ہو تو پھر زکوۃ دینا واجب نہیں ہوگا۔مگر اس کے ساتھ ہی یہ امر بھی یاد رکھنا چاہئے کہ گورنمنٹ جمع شدہ مال پر ٹیکس نہیں لیتی بلکہ آمد پر ٹیکس وصول کرتی ہے۔لیکن اسلام اس مال سے زکوۃ وصول کرتا ہے جو انسان کے پاس جمع ہو۔اور جس پر ایک سال گزر گیا ہو۔ہاں اس مال پر جس میں سے گورنمنٹ نے زکوۃ کے برابر یا اس سے زائد ٹیکس لے لیا ہوز کو ۃ واجب نہیں۔مگر کچھ نہ کچھ رقم ثواب میں شمولیت کے لیے اسے طوعی طور پر پھر بھی دینی چاہئے۔ہاں اگر ائم ٹیکس یا مالیہ کم ہو اورز کو ۃ یا عشر اس پر زیادہ عائد ہوتا ہو تو پھر جتنی کمی رہ جائے گی اُس کو پورا کرنا اُس کا فرض ہوگا۔( تفسیر کبیر۔جلد ششم ،سورۃ نور صفحه ۳۴۱،۳۴۰) زکوۃ دینے کا رواج عورتوں میں کم ہے حالانکہ مردوں سے زیادہ عورتیں ہیں جن پر زکوۃ فرض ہے کیونکہ مرد تو وہی لوگ صاحب زکوۃ ہیں جو مالدار اور صاحب جائیداد ہیں اور یہ بہت کم ہوتے ہیں مگر عورتیں تو بہت کم ہوں گی جن کے پاس کچھ بھی زیور نہ ہو۔عام طور پر عورتوں کے پاس کچھ نہ کچھ زیور ضرور ہوتا ہے مگر انہیں کوئی توجہ نہیں دلاتا کہ وہ اس کی زکوۃ ادا کریں۔الفضل ۲۸ جنوری ۱۹۱۴ء۔جلدا۔نمبر ۳۳ صفحه ۱۱)