فرموداتِ مصلح موعود — Page 53
۵۳ قبلہ کی طرف پاؤں کرنا اسلامی عبادات اور مسجد میں سوال : کیا قبلہ کی طرف مجبوری سے بھی پاؤں کرنا منع ہے۔بعض لوگ اسے کفر قرار دیتے ہیں؟ جواب : : قبلہ کی طرف پاؤں کرنا کفر تو نہیں البتہ ادب کے خلاف ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب وغیرہ کے متعلق فرمایا ہے کہ اگر آگے دیوار نہ ہو تو ادھر منہ کر کے پیشاب نہیں کرنا چاہئے۔مگر دوسری جگہ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ کو ایسا کرتے دیکھا گیا۔اس کی یہی تشریح کی گئی ہے کہ سامنے دیوار تھی۔قبلہ کی طرف پاؤں نہ کرنا ادب کا طریق ہے لیکن اگر کوئی کرے گا تو بد تہذیب کہلائے گا۔آخر مومن کو ضرورت کیا ہے کہ بدتہذیب بنے۔پھر مجھے اس میں بھی کوئی مجبوری نظر نہیں آتی کہ قبلہ کی طرف پاؤں کرنے پڑیں۔( الفضل ۲۹ جون ۱۹۴۶ء) بچے اگلی صف کی بجائے پچھلی صف پربیٹھیں سوال:۔مسجد میں چھوٹے بچے اگلی صف میں پہلے آکر بیٹھ جاتے ہیں۔بعد میں بڑی عمر کے لوگ آتے ہیں تو وہ بچوں کو اُٹھا کر خود آگے بیٹھنا چاہتے ہیں اس طرح بچوں کی حق تلفی ہوتی ہے؟ جواب :۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم یہی ہے کہ بچے پیچھے بیٹھیں اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم یہ ہے کہ پیچھے بیٹھیں خواہ وہ پہلے آکر آگے بیٹھ جائیں۔ثواب اسی بات میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی اطاعت کی جائے اور بڑوں کے آنے پر پیچھے ہٹ جائیں مگر یہ حکم اسی وقت تک ہے جب تک نماز کھڑی نہیں ہوتی۔جب نماز کھڑی ہو جائے تو بچوں کو پیچھے ہٹایا نہیں جاسکتا۔(الفضل۔ارمئی ۱۹۶۰ء)