فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 45

۴۵ اسلامی نماز اور مسجدیں اسلامی عبادات اور مسجد میں قرآن خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے زمین کے ہر ٹکڑہ کو سحق عبادت سمجھتا ہے کوئی ٹکڑہ اس بارہ میں دوسرے سے فضیلت نہیں رکھتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قرآنی حکم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے جُعِلَتْ لِىَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا خدا تعالیٰ نے ساری زمین کو ہی میرے لئے مسجد بنادی ہے۔آپ کے اس فقرہ کے کئی معنے ہیں مگر ایک معنی یہ بھی ہیں کہ دنیا کے ہر حصہ میں اور ہر جگہ پر مسلمان نماز پڑھ سکتا ہے۔اس کے لئے ضروری نہیں کہ وہ کسی گرجا میں جائے یا مندر میں جائے۔اس کے لئے ضروری نہیں کہ ضرور کوئی پادری اس کو نماز پڑھانے والا ہو۔اسلام پادریوں، پنڈتوں کا قائل نہیں۔وہ ہر نیک انسان کو خدا تعالیٰ کا نمائندہ سمجھتا ہے اور ہر نیک انسان کونماز میں رہنمائی کرنے کا حق دیتا ہے۔بے شک اسلام میں مساجد بھی ہیں لیکن وہ مساجد اس لئے نہیں کہ وہ جگہیں نماز کے لئے زیادہ مناسب تھیں بلکہ مساجد صرف اس لئے ہیں کہ کسی نہ کسی جگہ پر لوگوں کو جمع ہو کر اجتماعی نماز بھی ادا کرنی چاہئے۔(دیباچہ تفسیر القرآن صفحه ۲۹۴۲۹۳) مسجد کادروازه هر مذهب وملّت کے شرفاء کے لئے کھلا ھـ مسجد کسی خاص فرد کے لئے نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسان کے لئے بنائی گئی ہے۔اس میں غریب اور امیر اور مشرقی اور مغربی کا کوئی امتیاز نہیں اس کا دروازہ ہر ایک کے لئے کھلا ہے۔اس کے لئے بھی جو اس میں بیٹھ کر خدا کی عبادت کرتا ہے اور اس کے لئے بھی جو جنگلوں میں رہتا ہے۔تاریخوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک عیسائی قبیلہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذہبی تبادلہ خیالات کرنے کے لئے آیا۔جب ان کی نماز کا وقت آگیا جس میں ان کے بڑے بڑے پادری شامل تھے۔مسجد میں گفتگو شروع ہوئی اور گفتگو لمبی ہوگئی۔معلوم ہوتا ہے وہ اتوار کا دن تھا جو عیسائیوں میں عبادت کا دن ہے۔